حیات بشیر

by Other Authors

Page 462 of 568

حیات بشیر — Page 462

462 ہے۔ابھی سن کر آتا ہوں۔واپسی پر پوچھا ”تمہاری اماں تھیں؟“ میں نے کہا جی۔خود فون پر بول رہی تھیں۔فرمانے لگے۔میری حالت بتا دی ہے۔میں نے کہا جی۔وہ آنا چاہتی ہیں اور کار کا انتظام کر رہا ہوں تا صبح آ جائیں۔اس کے بعد کچھ کپکپی سی شروع ہو گئی اور اس کے بعد پھر زیادہ تر غنودگی میں ہی وقت گذرا۔“ اے اگلے حالات پھر محترم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب کے تحریر فرمودہ لکھے جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ۲ ستمبر کو تنفس میں پھر کچھ تنگی اور تیزی تھی اور حرارت بھی کچھ زیادتی پر تھی اور گردن میں قدرے اکڑاہٹ۔آپ کا چھاتی کا ایکسرے لیا گیا۔جس سے نمونیہ اور پھیپھڑوں کی Infection کی مزید تصدیق ہوئی۔خون بھی ٹسٹ کیا گیا۔اکڑاہٹ کے مدنظر Lumbar Puncture اور Cerebro-Spinal Fluid بھی نکالا گیا۔وہ بالکل صاف تھا اور اس طرح Meningitis یعنی دماغ کی جھلی کی سوزش کا شک بھی رفع کیا گیا۔مگر حالت بگڑتی گئی۔اس وقت اور ڈاکٹروں کو بھی مشورہ میں شامل کیا گیا۔چنانچہ ڈاکٹر محمد یوسف صاحب بھی آپ کو دیکھنے کے لئے آئے۔باوجود تمام کوششوں کے سانس کی تکلیف اور غنودگی بڑھتی گئی۔۱۲۔حضرت میاں مظفر احمد صاحب آپ کی وفات کا واقعہ تحریر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں : ۲ ستمبر کو جبکہ بہت سے احباب کوٹھی ۲۳ ریس کورس کے احاطہ میں مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے کہ ابا جان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔آپ کو دو تین سانس کچھ اُکھڑ کر آئے اور ہم سے رخصت ہو کر اپنے مالک حقیقی کے پاس جا پہنچے۔اناللہ وانا اليه راجعون۔نماز کے معابعد دوڑ کر اندر گیا۔آپ کا بازو اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے بوسہ دیا۔اور اسی کیفیت میں کچھ لمحوں کے لئے دعائیں کرتا رہا اس کے بعد چونکہ سب عزیز ابا جان والے کمرے میں اکٹھے ہو رہے تھے میں والدہ کے پاس چلا گیا اور ان کے قدموں میں دیر تک بیٹھا رہا۔‘۱۳ حضرت میاں صاحب کی وفات کی اطلاع آناً فاناً لاہور شہر کے تمام حلقوں میں پھیل گئی۔ریڈیو پر بھی اعلان ہو گیا اور ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گذرا تھا کہ کوٹھی کے سامنے کا تمام حصہ مردوں اور عورتوں سے بھر گیا۔حضرت میاں صاحب کی محبت کی وجہ سے بچے بھی کافی تعداد میں پہنچ گئے۔