حیات بشیر

by Other Authors

Page 461 of 568

حیات بشیر — Page 461

461 لحاظ سے آپ کا ٹمپریچر ۱۰۸ کے قریب ہوگا اس کو کم کرنے کے لئے جسم کو برف سے ڈھانپ کر ٹھنڈے کپڑوں سے نہایت تیزی سے رگڑا گیا۔ڈیڑھ یا دو گھنٹے ایسا کرنے کے بعد ٹمپریچر کم ہونا شروع ہوا۔اور دوپہر تک تقریباً ۱/۲ ۱۰۱ تک آ گیا۔اس کے کم ہونے پر غنودگی اور بے ہوشی بھی قدرے کم ہوئی۔آواز دینے پر آپ آنکھیں کھولتے اور کچھ بولنے کی کوشش بھی فرماتے۔سر میں گرانی کی شکایت کی ایک دفعہ اپنے خادم بشیر کو بھی بلایا۔اور مجھے بھی یاد فرمایا۔آپ کی نہایت درجہ تشویشناک حالت کے مدنظر دن میں کئی دفعہ مشورہ کیا جاتا اور بدل بدل کر بہت سی دوائیں استعمال کی گئیں۔پانی اور کچھ غذا معدہ میں نالی ڈال کر دینی شروع کی گئی۔شام کے وقت برف کے بغیر آپ کا ٹمپریچر ۱۰۲ تھا۔سانس کی حالت کافی بہتر تھی۔رات بھر یہی حالت رہی۔نا " حضرت میاں مظفر احمد صاحب حضرت میاں صاحب سے اپنی آخری ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مجھ سے آخری ملاقات غنودگی سے پہلے ۳۰-۳۱ /اگست کو ہوئی۔میں بیماری کی شدت کا سن کر فوراً چند گھنٹوں میں لاہور پہنچ گیا۔سیدھا ابا جان کے کمرے میں گیا۔لیٹے ہوئے تھے۔مجھے دیکھ کر فرمایا ”مظفر ! تم آگئے یہ فقرہ ایسے رنگ میں کہا جیسے کسی کو انتظار تھا۔اس فقرہ میں ایک عجیب اطمینان اور سکون تھا جس سے مجھے کچھ گھبراہٹ ہوئی۔میں ابا جان کا ہاتھ پکڑ کر سرہانے کی طرف بیٹھ گیا۔پھر فرمانے لگے ”کراچی جا رہے ہو؟“ میرا کراچی جانے کا اس بیماری کی شدت سے پہلے کا پروگرام تھا۔میں نے کہا ابھی تو میں نہیں جا رہا۔فرمانے لگے ”یہ بڑا اچھا فیصلہ ہے اور اس فقرہ کو کب وو دوبارہ دوہرایا کہ یہ بڑا اچھا فیصلہ ہے اس کے بعد میں نے کھانے کے لئے عرض کیا۔فرمانے لگے مجھے بھوک نہیں۔میں نے کہا آپ کو دوائی دینی ہے۔خالی پیٹ ٹھیک نہیں رہے گی کچھ کھا لیں۔اس پر تیار ہو گئے۔سہارے سے بٹھایا اور اسی کیفیت میں سہارے سے بٹھائے رکھا کیونکہ لیٹ کر کھانا کھانا پسند نہ فرماتے تھے۔کھانے کے بعد دوائی دی اور میں پاس ہی بیٹھا رہا۔اتنے میں والدہ کا فون آیا۔میں اُٹھ کر جانے لگا فرمانے لگے بیٹھے رہو۔انہیں فون کا علم نہ تھا۔میں نے عرض کی کہ اماں کا فون آیا