حیات بشیر — Page 463
463 اس وقت جو افسردگی احباب پر طاری تھی اس کا نقشہ الفاظ میں نہیں کھینچا جا سکتا۔تمام احباب سر نیچے کئے ہوئے حیران و پریشان کھڑے تھے مگر بات کرنے کی طاقت نہیں پاتے تھے۔میرا اپنا یہ حال تھا کہ ۲ ستمبر کی صبح کو ہی نماز فجر سے پہلے متعدد بار میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ فُعِلَ مَا قُدْرَ “ یعنی ”خدا تعالیٰ کی تقدیر وارد ہو چکی ہے“ حضرت میاں صاحب کی بیماری گوتشویشناک تھی لیکن یہ سمجھا جا رہا تھا کہ کل کی نسبت آج مرض کی شدت میں کمی ہے۔اس لئے ادھر ذہن نہیں جاتا تھا۔لیکن جب یہ واقعہ ہو گیا تب پتہ جب یہ واقعہ ہو گیا تب پتہ لگا کہ یہ الفاظ اسی واقعہ سے تعلق رکھتے تھے۔بہر حال کوٹھی کے دالان میں سینکڑوں انسان بت بنے کھڑے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام مردوں اور عورتوں کو آخری زیارت کا موقعہ دیا جائے۔چنانچہ کوٹھی کے جس کمرہ میں آپ قیام فرمایا کرتے تھے اور جہاں متعدد بار ہم آپ کی زیارت سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔اس روز جب گئے تو اس نورانی وجود کی نعش پڑی تھی اور روح جسم عنصری سے پرواز کر کے اپنے مولی حقیقی کے حضور جا چکی تھی بے اختیار زبانوں سے پھر اناللہ وانا الیہ راجعون کی صدا بلند ہوئی۔انتظام یہ تھا کہ احباب لائن کی صورت میں کمرہ میں داخل ہو کر چارپائی کے دائیں طرف سے گذریں اور سرہانے کے اوپر سے ہو کر دوسری طرف سے باہر نکل آئیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے بیان کے مطابق چونکہ گھوڑا گلی میں ہی آپ نے ایک منذر خواب کی بنا پر اپنے صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب کو فرمایا تھا کہ پرندہ اپنے گھونسلے میں ہی خوش رہتا ہے۔میں تو ربوہ جانا پسند کروں گا۔لیکن چونکہ وہاں بجلی کا انتظام ناقص ہے اور شاید طبی لحاظ سے بھی لاہور سے گذرنا مناسب ہو۔اس لئے لاہور جانا پڑتا ہے۔ایسی کیفیت کے پیش نظر میرے چھوٹے بھائی مرزا منیر احمد کو تاکیداً فرمایا کہ دیکھو میرا جنازہ بغیر کسی توقف کے لے جانا۔چنانچہ اسی خواہش محترم ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب لکھتے ہیں: آپ کی وفات سے ۴۸ گھنٹے پہلے بھی وہم و گمان نہیں تھا کہ آپ کی وفات اس قدر نزدیک ہے۔آپ کی وفات نمونیہ اور پھیپھڑوں کی Infection اور تیز بخار کیوجہ سے ہوئی ہے جو کہ عام حالات میں علاج اور خصوصاً موجودہ Antibiotics علاج سے آسانی سے قابو میں آجاتی ہیں مگر باوجود تمام کوششوں کے کوئی دوائی ذرہ بھر اثر پذیر نہیں ہوئی۔یہ تمام باتیں ہمیں اس نتیجہ پر مجبور کرتی ہیں کہ آپ کی وفات اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ اور تقدیر مبرم تھی جو اس کی مثیت کے مطابق پوری ہوئی۔انالله و انا إليه راجعون كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاکرام (الفضل خاص نمبر صفحه ۳۴) 66