حیات بشیر — Page 460
460 اور قیمتی وجود ہم انسان بعض دفعہ پورے زور شور سے تدبیر کر رہا ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی کے قریب ہے مگر تقدیر اس کی بے خبری اور لاعلمی پر خنداں ہوتی ہے۔ہم کو کیا تھا کہ اب بیماری کا ایسا طوفانی دور شروع ہونے والا ہے کہ جس میں ہمارا یہ محبوب سے ہمیشہ کے لئے چھین لیا جائے گا۔دوسرے دن ہی یعنی ۲۹ اگست کی صبح کو آپ کو معمولی سی حرارت ہو گئی ۹۹ کے قریب پہلے بھی کبھی ایسا ہو جاتا تھا۔اس کے لئے دوائی دی گئی مگر شام کو ٹمپریچر قدرے زیادہ ہوگیا یعنی ۱۰۰ رات کو کچھ دوائی کی وجہ سے یا کچھ حرارت کی وجہ سے غنودگی سی رہی بخار کیلئے مزید دوائی دی گئی ۳۰ راگست کی صبح کو بجائے کمی کے بخار کچھ اور زیادہ تھا۔چھاتی میں کچھ Congestion کی علامات تھیں۔پھر مشورہ ہوا خون ٹیسٹ کرایا گیا۔جس سے چھاتی کی Infection کی تصدیق ہوئی۔مزید دوائیاں اور انجکشن دیئے۔مگر اسکے باوجود رات کو بخار ۱۰۲ کے قریب تھا۔۳۱ اگست کی صبح کو حرارت ۱۰۳۱۰۲ کے درمیان تھی اور نیم غنودگی کی حالت تھی۔صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کا پروگرام راولپنڈی سے شام کو آنے کا تھا۔مگر بخار کی زیادتی کی اطلاع ملنے پر ۱۲ بجے دن کے وقت ہی وہ پہنچ گئے۔آپ نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا کہ مظفر ! آپ آگئے تقریباً سارا دن ٹمپریچر کو بڑھنے سے روکنے کے لئے جسم پر پانی اور برف سے مالش جاری رہی رات کو ایک پرائیویٹ نرس خدمت کے لئے رکھی گئی اور اس کو ہدایت تھی کہ ٹمپریچر ۱۰۲،۱۰۱ سے بڑھنے نہ پائے اور اگر کوئی علامت اور پیچیدگی ہو تو مجھے اطلاع دے۔رات تو مجھے نہیں بلایا گیا۔مگر فجر کی نماز کے بعد مورخہ یکم ستمبر کو اطلاع آئی کہ حضرت میاں صاحب کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔میں گیا تو ٹمپریچر زیادہ تھا۔آپ پوری طرح بے ہوش تھے۔آپ بلغم اور ہوا کی نالیوں کی رطوبت باہر نہیں نکال سکتے تھے۔اس لئے سانس میں کافی تنگی اور رکاوٹ تھی۔اسی وقت بلغم نکالنے کے لئے ہسپتال سے Electric sucker کے منگوانے کا انتظام کیا گیا اور اس سے آپ کی سانس کی نالیوں کو صاف کیا گیا اور ناک کے راستے سے آکسیجن دینی شروع کی گئی۔مگر ہمارے دیکھتے دیکھتے ٹمپریچر ۱۰۴ اور پھر ۱۰۵ اور ۱۰۶ ہو گیا اور جلد ہی ۱۰۷ کے قریب پہنچ گیا یہ بغل کا ٹمپریچر تھا چونکہ اندرونی حرارت اس سے ڈیڑھ یا دو ڈگری زیادہ ہوتی ہے۔اس