حیات بشیر — Page 431
431 حکومت اخبار الفضل کے لئے لکھ دیا۔اتفاق سے ان دنوں چیف ایڈیٹر الفضل مکرم خواجہ غلام نبی صاحب مرحوم رخصت پر گئے ہوئے تھے اُن کی غیر موجودگی میں اسسٹنٹ ایڈیٹر صاحب کام کر رہے تھے۔انہوں نے میرا مضمون دیکھا تو کچھ گھبرائے اور فرمایا کہ میں اس کی اشاعت کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔البتہ قادیان کے دو تین اہل علم و قلم حضرات اگر اس مضمون سے اتفاق فرمائیں تو شائع ہو جائے گا۔موصوف کی گھبراہٹ پر مجھے کچھ شبہ سا ہوا۔تا ہم ان کی تسلی کے لئے میں نے مکرم قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل اور مکرم مولانا ابولعطاء صاحب کو وہ مضمون دکھا دیا۔انہوں نے پڑھ کر نفس مضمون سے اتفاق فرمایا۔پھر میں حضرت میاں صاحب کی خدمت میں بھی برائے مشورہ وہدایت حاضر ہوا۔آپ نے اس مضمون کے پہلے چند پیرا گراف ملاحظہ فرما کر از راہ تلطف اپنے مخصوص دلآویز انداز میں فرمایا۔یہ ہمیشہ یادرکھیں کہ مضمون کو کئی جگہ دکھانا اچھی بات نہیں۔اس سے خود اعتمادی کی روح مجروح ہوتی ہے۔ہر انسان جدا گانہ خیال رکھتا ہے۔دوسروں کی آراء و ترمیمات کا دخل لازماً اصل مضمون کی ہیئت بدل دیتا ہے۔اور پھر وہ اپنا مضمون نہیں رہتا۔بلکہ دوسروں کے خیالات کا مرقع بن جاتا ہے۔یہی بات خود اعتمادی کے منافی ہے اس لئے اصولاً اتنا ضرور دیکھ لینا چاہیئے۔کہ جس موضوع پر مضمون لکھنا ہے وہ ده حتی الوسع پہلے اچھی طرح سمجھ لیا گیا ہے اور پھر دیانتداری سے قال اللہ و قال الرسول کی روشنی میں ہی اس کو لکھا ہے۔ان دوباتوں پر جب دل گواہی دے دے تو پھر مضمون اخبار کے حوالہ کر دینا چا ہیے۔اسٹنٹ ایڈیٹر صاحب نے مذکورہ بالا کوائف معلوم کر کے پھر میرا مضمون الفضل مجریه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۴۶ء میں شائع کر دیا۔“۔دوستوں کو علمی اور تحقیقی مضامین لکھنے کی دعوت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو جماعت کی روحانی تربیت عملی اصلاح اور علمی ترقی کا ہر گھڑی خیال رہتا تھا۔آپ نے مقدور بھر اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائی ہے۔اور نوجوانوں کو ہر موقعہ پر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ ہر میدان میں دوسروں کے لئے نمونہ ثابت ہوں۔آپ کو ۱۹۵۸ء میں رویا میں تحریک کی گئی کہ احمدی نوجوانوں کو تحقیقی مضامین لکھنے اور اسلام و احمدیت کی تائید میں علمی لٹریچر تصنیف کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔اس پر آپ نے الفضل