حیات بشیر — Page 432
432 طور پر کے سالانہ نمبر ۱۹۵۸ء نیز ۲ جنوری ۱۹۵۹ء میں دو پر زور مقالے رقم فرمائے جن میں تحریر فرمایا کہ قلم علم کی اشاعت اور حق کی تبلیغ کا سب سے اہم اور سب سے مؤثر ترین ذریعہ ہے اور زبان کے مقابلہ پر قلم کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس کا حلقہ نہایت وسیع اور اس کا نتیجہ بہت لمبا بلکہ عملاً دائمی ہوتا ہے۔زبان کی بات عام طور پر منہ سے نکل کر ہوا میں گم ہو جاتی ہے۔سوائے اس کے کہ اسے قلم کے ذریعہ محفوظ کر لیا جائے مگر قلم دنیا بھر کی وسعت اور ہمیشگی کا پیغام لے کر آتی ہے اور پریس کی ایجاد نے تو قلم کو وہ عالمگیر پھیلاؤ اور وہ دوام عطا کر دیا ہے جس کی اس زمانہ میں کوئی نظیر نہیں کیونکہ قلم کا لکھا ہوا گویا پتھر کی لکیر ہوتا ہے۔جسے کوئی چیز مٹا نہیں سکتی اور قلم کو یہ مزید خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اسے اپنے منبع کی نسبت کے لحاظ سے کامل یقین کا مرتبہ میسر ہوتا ہے۔ہمیں بعض اوقات کسی شخص کی طرف سے کوئی بات زبانی پہنچتی ہے مگر اس کے سننے والوں کی روایت میں اختلاف ہو جاتا ہے مگر جب کسی شخص کے قلم سے کوئی بات نکلے تو پھر اس بات کے منبع اور مآخذ کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہتا۔بہر حال اس زمانہ میں جب کہ اسلام کے دشمن اسلام کی تعلیم اور حضرت سرور کائنات علی کی ذات والا صفات کے خلاف ہزاروں لاکھوں رسالے اور کتابیں شائع کر رہے ہیں۔قلم سے بڑھ کر اسلام کی مدافعت اور اسلام کے پر امن مگر جارحانہ علمی اور روحانی حملوں سے زیادہ طاقتور کوئی اور ظاہری ذریعہ نہیں۔پس اے عزیزو اور میرے دوستو! اپنے فرض کو پہچانو سلطان القلم کی جماعت میں ہو کر اسلام کی قلمی خدمت میں وہ جوہر دکھاؤ کہ اسلاف کی تلواریں تمہاری قلموں پر فخر کریں۔تمہارے سینوں میں اب بھی سعد بن ابی وقاص اور خالد بن ولید اور عمروبن عاص اور دیگر صحابہ کرام اور قاسم اور قتیبہ اور طارق اور دوسرے فدایان اسلام کی روحیں باہر آنے کے لئے تڑپ رہی ہیں۔انہیں رستہ دو کہ جس طرح وہ قرون اولیٰ میں تلوار کے دھنی بنے اور ایک عالم کی آنکھوں کو اپنے کارناموں سے خیرہ کیا۔اسی طرح اب وہ تمہارے اندر سے ہو کر ( کیونکہ خدا اب بھی انہیں قدرتوں کا مالک ہے) قلم کے جوہر دکھائیں اور دنیا کی کایا پلٹ دیں۔“ وو ۲ مضمون کے انتخاب کے متعلق میرا یہ مشورہ ہے کہ صرف ان مضمونوں کو چنا جائے