حیات بشیر

by Other Authors

Page 430 of 568

حیات بشیر — Page 430

430 اور تصحیح بھی خود کرنی ہوگی۔(س) ہماری کوئی کتاب تو شاندار نکلنی چاہیے۔(ش) کاغذ بھی اعلیٰ لگایا جائے۔“ مضمون نگاری سے متعلق ہدایات مرزا بشیر احمد ۶۰-۲-۱۱ محترم سید فضل الرحمان صاحب فیضی آف منصوری حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ☆ کو لو تعلیم د مضمون نگاری کے سلسلہ میں بھی ایک موقعہ پر قادیان میں حضرت میاں صاحب نے اس عاجز کمترین کو ایک نہایت بیش بہا نادر اور مستحکم ہدایت سے مستفیض فرمایا تھا۔یہاں اس کا ذکر ہمارے ان عزیز نوجوانوں کے لئے جو سلسلہ کے لئے مضامین لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔انشاء اللہ مفید و با برکت ثابت ہو گا۔اوائل ۴۶ء کی بات ہے کہ میرے ایک تعلیم یافتہ غیر احمدی دوست نے ذکر کیا کہ آج کل جمہوری نظام حکومت پر بڑی گرما گرم بحثیں ہو رہی ہیں۔کانگرسی علماء خالص جمہوری نظام اسلام کے عین مطابق فرماتے ہیں۔تعلیم یافتہ مسلمان بھی اس کے حامی ہیں۔اُن کے مقابل بعض علماء حکومت الہیہ کا نعرہ بلند کرنے میں مصروف ہیں۔اس کے بارہ میں جماعت احمدیہ کا نقطہ نظر کیا ہے؟ میں نے جواب میں قرآن مجید اور تاریخ کی روشنی میں ”نظام خلافت کو بالوضاحت ان کے سامنے بیان کر دیا۔جس کو سن کر وہ بہت متاثر ومحفوظ ہوئے اور پر زور مطالبہ کیا کہ میں اپنے خیالات قلم بند کر کے اخبار میں شائع کرا دوں۔تمام احمدی دوست جنہوں نے تفسیر کبیر“ کا مطالعہ کیا ہے جانتے ہیں کہ اس میں حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے متعدد مقامات پر بڑی شرح وبسط سے نظام خلافت کو بیان فرمایا ہے۔اس لئے ہمارے لئے تو یہ مضون بفضلہ تعالیٰ بالکل صاف ہے اور کسی قسم کی پیچیدگی یا ابہام نہیں رکھتا۔تاہم موازنہ کی خاطر میں نے مضامین لکھنے سے قبل دنیا کی مختلف جمہوریتوں کے مروجہ آئین کا بھی مطالعہ کر لیا۔اور پھر قادیان میں ایک مضمون زیر عنوان ”جمہوریت اور اسلامی طرز یہ آپ نے اسلئے لکھا کہ میاں نورالدین صاحب کا ایک لڑکا بھی کتابت کرتا ہے اور مہاشہ فضل حسین صاحب کا ذکر اس لئے کیا کہ مہاشہ صاحب اس کتاب کے پبلشر تھے۔