حیات بشیر

by Other Authors

Page 427 of 568

حیات بشیر — Page 427

427 ہے۔آپ مجھے بازار سے کوئی اچھا سا قلم خرید کر لادیں۔چنانچہ میں بازار سے دو تین نمونے لے کر حاضر ہوا۔آپ نے ایک کاغذ پر باری باری ہر قلم سے کچھ لکھا اور بالآخر ایک قلم پسند فرما لیا۔آپ نے مجھے اس قلم کی لکھائی بھی دکھائی۔جب میں نے کاغذ دیکھا تو اس پر کئی مرتبہ ”بسم اللہ لکھی ہوئی تھی۔آپ نے فرمایا کہ میں نے جب کبھی بھی نیا قلم خرید کیا ہے تو اس سے ہمیشہ پہلے سے ہمیشہ پہلے ”بسم اللہ ہی لکھی ہے۔جب قلم کا خط اور روانی دیکھنے کے لئے کچھ لکھنا ہی ہے تو بجائے کچھ اور لکھنے کے یا یونہی لکیریں ڈالنے کے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اسے اللہ کے نام سے شروع کیا جائے۔“ السلام علیکم لکھنے کی تلقین اسی طرح قافلہ قادیان کے سلسلہ میں جو خطوط سرکاری دفاتر کو انگریزی میں بھجوائے جاتے اُن کے بارہ میں آپ نے دفتر کو مستقل ہدایت دے رکھی تھی کہ ان کی ابتداء میں دبسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم لکھا جائے اور جہاں خطاب کیا جائے وہاں السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ لکھا جائے۔چنانچہ دفتر کی طرف سے اس کی پوری پابندی کی جاتی رہی ہے۔“ ۵ مضامین کی صحت کے متعلق احتیاط آپ اس امر کو خوب سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فرزند اور قمر الانبیاء کا مصداق اور آسمان روحانیت کا ایک درخشندہ گوہر ہونے کی وجہ سے بعد میں آنے والے لوگ آپ کی تحریرات کو سند کے طور پر استعمال کریں گے اس لئے آپ حتی الامکان اپنی تصنیفات کی صحت اور درستی کے بارہ میں نہایت ہی احتیاط برتتے تھے حوالجات ہر مرتبہ اصل کتابوں سے دیکھنے کا التزام فرماتے تھے اور کتابت کی غلطیوں کو بہت اہتمام سے درست کرواتے تھے۔ربوہ میں آپ کی کتابوں کی کتابت عموماً مکرم میاں نور الدین صاحب خوشنویس کرتے تھے۔وقتاً فوقتاً آپ انہیں بعض ہدایات بھی لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔یہاں آپ کی چند چٹھیاں اس لئے درج کی جاتی ہیں کہ تا احباب اندازہ لگا سکیں کہ آپ کو کتابت کی صحت اور درستی کا کس قدر خیال رہتا تھا۔-1 مکرم میاں نورالدین صاحب کاتب السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کاتہ آپ بعض جگہ اپنی طرف سے بعض ناموں کے ساتھ ریض کا لفظ لکھ دیتے ہیں۔آئندہ