حیات بشیر

by Other Authors

Page 426 of 568

حیات بشیر — Page 426

426 ضبط تولید کے حق میں دیئے جاتے تھے ان میں سے بھی ایک ایک کو لے کر ان کا مدلل ومسکت جواب دیا۔غرض یہ رسالہ اس مسئلہ کے حل کے لئے حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔عید کی قربانیاں ایک رسالہ آپ نے عید کی قربانیاں“ کے نام سے لکھا تھا۔اس رسالہ میں ان علماء اقتصادیات کے نام نہاد ماہرین کے سوالات کا جواب ہے۔جنہوں نے عید کی قربانیوں کو روک کر وہ روپیہ غربا و مساکین فنڈ میں دینے کی تحریک جاری کر رکھی تھی۔مثلاً یہی سوال کہ لن ينال الله لحومها ولا دماءها ولكن يناله التقوى منكم (۲) کہ اے مومنو! قربانیوں کے جانوروں کا گوشت اور خون خدا کو نہیں پہنچتا۔بلکہ تمہاری طرف سے تقویٰ کی وہ روح پہنچتی ہے جس کے ماتحت تم یہ قربانیاں کرتے ہو“ سے ظاہر ہے کہ قربانی کی ظاہری صورت کوئی چیز نہیں بلکہ تقویٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسرے رنگ میں خرچ کرنا بھی کافی ہے۔اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں: وو یہ استدلال کتنا غلط کتنا بے بنیاد اور قرانی محاورہ کے خلاف ہے ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشا تھا جو بعض جلد باز لوگوں نے اس آیت سے سمجھا ہے یعنی صرف قربانیوں کی روح مد نظر تھی تو پھر اس آیت کے ساتھ لگتی ہوئی آیت میں انہی قربانیوں کے متعلق یہ کیوں فرمایا که فكلوا منها و اطعمو القائع والمعتر (۳) یعنی اے مسلمانو تم ان قربانیوں کا گوشت خود بھی کھاؤ اور پھر ایسے لوگوں کو بھی کھلاؤ جو غریب اور پریشان حال ہیں خواہ وہ سائل ہوں یا غیر سائل “ ہے آپ نے اس مسئلہ کے اقتصادی پہلو پر بھی سیر کن بحث فرمائی ہے اور اعداوشمار پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ جو خطرہ محسوس کیا جارہا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔اس قسم کے آپ نے بیسیوں ٹریکٹ اور مضامین لکھے جو جماعت کے روزانہ اخبار’الفضل“ اور سلسلہ کے دوسرے رسالوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔”الفضل“ کے مضامین کی فہرست تو کتاب کے آخر میں لگا بھی دی گئی ہے تا جو لوگ ان سے فائدہ اٹھانا چاہیں ان کے لئے آسانی ہو۔بسم اللہ لکھنے کا اہتمام مترم سید مختار احمد صاحب ہاشمی ہیڈ کلرک نظارت خدمت درویشاں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر دفتر کی ڈاک لے کر حاضر ہوا آپ نے کام کے اختتام پر فرمایا کہ میرے قلم کا نب خراب ہو گیا