حیات بشیر — Page 425
425 مشتمل ہے۔تیسری تقریر ذکر حبیب کے موضوع پر آپ نے الیاء کے جلسہ سالانہ میں فرمائی جس کا عنوان آپ نے ”در مکنون رکھا یعنی غلافوں میں لیٹے ہوئے موتی۔اس نام میں یہ اشارہ کرنا مقصود تھا کہ گو اس وقت دنیا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کو قبول نہیں کیا۔لیکن وقت آتا ہے کہ آپ کے لائے ہوئے بیش بہا موتیوں پر سے پردے اترنے شروع ہوں گے اور دنیا ان کی قدر وقیمت کو پہچانے گی۔کیونکہ یہ الہی تقدیروں میں سے ہے۔اس تقریر کے چھیانوے صفحات ہیں اور بے حد دلچسپ اور ایمان افزا واقعات پر ذکر حبیب کے موضوع پر چوتھی اور آخری تقریر ۱۹۶۲ء کے جلسہ سالانہ پر سنائی گئی تھی۔آپ کی طبیعت چونکہ بیماری کی وجہ سے بہت حد تک کمزور ہو چکی تھی۔اس لئے آپ کے ارشاد کے ماتحت یہ تقریر حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے سنائی تھی۔مجھے خوب یاد ہے جب میں حضرت ناظر صاحب کے ارشاد پر آپ کو لینے کے لئے آپ کی کوٹھی ”البشری“ میں گیا تو آپ نہایت ہی آہستہ آہستہ قدم اٹھا کر اپنے فرزند ارجمند حضرت میاں مظفر احمد صاحب اور داماد محترم میاں وقیع الزمان خاں صاحب کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر تشریف لائے۔خاکسار جو اس وقت کار کے ساتھ کھڑا تھا آپ کی علالت کے پیش نظر مصافحہ کے لئے جرات نہ کر سکا۔مگر حضرت ممدوح نے خود ہی مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا اور از راہ شفقت خیریت بھی پوچھی اتنے بڑے انسان کا ایسی حالت میں ایک خادموں کے خادم کو مصافحہ کا شرف بخشا عجیب رنگ رکھتا تھا۔آپ کے پاکیزہ اخلاق کا یہ روح پرور نظارہ مجھے زندگی بھر نہیں بھولے گا۔خاندانی منصوبہ بندی کچھ عرصہ ہوا آپ نے ایک چھوٹا سا رسالہ خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے تحریر فرمایا تھا۔اور اس میں ملک کے مفکرین کے ان خدشات کا جواب تھا جو ان کے دلوں میں انسانوں کی شرح پیدائش اور شرح اموات اور زمین کی اوسط پیداوار سے پیدا ہورہے تھے۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ضبط تولید پر عمل نہ کیا گیا تو ملک کا غذائی مسئلہ نہایت نازک صورت اختیار کر جائے گا۔جس کے عواقب خطرناک اور اثرات المناک ہو سکتے ہیں۔آپ نے اس مسئلہ کے روحانی اور اخلاقی پہلو کو ایسے ٹھوس اور ناقابل تردید دلائل سے مبرہن فرمایا کہ وہ لوگ جن کو اس مسئلہ نے پریشان کر رکھا تھا۔جب انہوں نے آپ کا یہ رسالہ پڑھا تو آپ کے علم اور وسیع نظر کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے۔آپ نے مختلف ممالک اور اپنے ملک کی زرعی پیداوار کا مقابلہ و موازنہ کیا۔اور وہ دلائل جو