حیات بشیر — Page 423
423 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ مذاہب عالم تک پیغام حق پہنچانے کی کوشش اور اس میں کامیابی، مسیح موعود کی علامات پر اصولی اور تحقیقی نظر اور مسئلہ ختم نبوت کی حقیقت پر نہایت عمدہ روشنی ڈالی گئی ہے اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر قبولیت عطا فرمائی ہے کہ یہ مصنف کی زندگی میں چھ مرتبہ چھپ چکی ہے۔ایک چھوٹی سی جماعت میں جسکی قوت خرید بھی بہت کم ہو کسی کتاب کا مصنف کی زندگی میں چھ مرتبہ شائع ہو جانا کتاب کے مقبول عام ہونے کا بہت بڑا ثبوت ہے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۹۲۲ ء میں شائع ہوئی تھی اور آخری مرتبہ ۱۹۵۸ء میں۔اس کتاب کے کل صفحات ۳۸۰ ہیں۔ہمارا خدا بڑی تقطیع کے ۱۷۲ صفحات کی یہ کتاب ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت پر ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے یہ کتاب دسمبر ۲۷ء میں شائع ہوئی تھی۔اس کتاب میں جہاں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے دلائل اور فوائد پر بحث کی گئی ہے۔وہاں دہریت کے دلائل اور ان کا رڈ بھی نہایت شاندار طریق پر کیا گیا ہے۔كلمة الفصل یہ کتاب چھوٹی تقطیع کے ۱۵۸ صفحات مشتمل ہے۔اس کی تصنیف کا سن ۱۹۱۵ء ہے اور یہ آپ نے اس وقت لکھی تھی جب کہ آپ ایم۔اے کی تیاری میں مصروف تھے۔اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ۱۹۴۱ء میں ”مسئلہ کفر و اسلام“ کے نام سے چھپا تھا۔الحجة البالغه یہ کتاب حضرت ممدوح نے ۱۹۱۷ء میں ایم اے کے امتحان سے فارغ ہو کر لکھی تھی۔مسئلہ وفات مسیح علیہ السلام کے ہر پہلو کی اس میں مکمل اور جامع رنگ میں وضاحت کی گئی ہے۔اور جس قدر اعتراضات مخالفین کی طرف سے اس مسئلہ پر کئے جاتے ہیں ان کا تسلی بخش جواب دیا گیا ہے۔اس کتاب کے ۹۶ صفحات ہیں دوسری مرتبہ یہ کتاب فروری ۵۵ء میں اور تیسری مرتبہ جون ۶۵۵ میں شائع ہوئی تھی۔ختم نبوت کی حقیقت جماعت احمدیہ پر ایک اہم الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ وہ ختم نبوت کی قائل نہیں۔اس افتراء کا اس کتاب میں نہایت ہی مدلل جواب دیا گیا ہے۔اور ثابت کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی امت میں ایسے انسان پیدا ہو سکتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ مکالمہ و مخاطبہ کرے اور