حیات بشیر — Page 415
415 تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ قدرت نے اسے کئی سو سال تک پردے میں چھوڑ دیا ہے۔سو امید ہے کہ آپ میرے اس اصولی مشورہ کو ملحوظ رکھیں گے تا کہ آپ کو خدا کی طرف سے نصرت حاصل ہو اور کوئی مسئلہ محض ذہنی مشغلہ نہ بن جائے“ ایک دفتری خط کے جواب میں فرمایا: فقط والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ۶۱-۷-۵ مجلس افتاء کا فیصلہ دنیا کے مختلف علاقوں میں نماز روزہ کے اوقات کے متعلق موصول ہوا۔میں تو اس معاملہ میں سورۃ مزمل سے استدلال کیا کرتا ہوں کہ جب تک رات اور دن اٹھارہ اور چھ گھنٹے کی حدود کے اندر ہیں۔اس وقت تک مسئلے کی ظاہری صورت کے مطابق عمل ہونا چائیے۔اور جب فرق اس حد سے تجاوز کر جائے۔تو پھر تقدیر پر بنیاد رکھنی چاہیئے۔اس سے زیادہ بار یک جانا عام لوگوں کی سمجھ اور ادراک سے بالا ہو جائے گا اور تکلیف مالا طاق کا موجب ہوگا۔اسلامی شریعت کی بنیاد سہولت عامہ کے اصول پر ہے اور تقدیر کے اصول کی طرف تو خود آنحضرت علی نے ایک حدیث میں اشارہ فرمایا ہے۔اس سے زیادہ تفصیل میں جانا عامتہ الناس کے دماغوں میں انتشار پیدا کرے گا۔ویسے بھی ابھی تک ان علاقوں میں مسلمان آبادی نہیں پائی جاتی جن میں دن رات کا فرق اس حد سے بڑھ جاتا ہے۔اس لئے یہ سوال دراصل ابھی تک محض علمی نوعیت کا ہے عملی میدان سے تعلق نہیں رکھتا۔اور عملی صورت پیدا ہونے سے کسی سوال کی بحث اٹھانا پسندیدہ نہیں ہوتا۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ۶۲-۱۱-۲۱۱ پہلے ان مسائل کی تشریح و توضیح سے ظاہر ہے کہ فقہی مسائل میں بھی آپ کی رہنمائی اور نصائح مشعل راہ کا حکم رکھتی تھیں۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کی صاحبزادی عزیزہ امتہ الباسط ایاز صاحبہ کی شادی حضرت میاں صاحب ہی کی منشاء کے مطابق مشرقی افریقہ میں ملازم ایک پاکستانی نوجوان محترم چوہدری افتخار احمد صاحب ایاز سے ہوئی عزیزہ موصوفہ نے افریقہ پہنچ کر جو پہلا خط آپ کی خدمت میں لکھا۔اس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے علاوہ اور باتوں کے یہ نصیحت بھی فرمائی کہ