حیات بشیر

by Other Authors

Page 414 of 568

حیات بشیر — Page 414

414 ایک شام مسجد مبارک ربوہ میں آپ تشریف لائے۔خاکسار سامنے کھڑا تھا۔بلایا اور وہی گداز محبت بھرا ہاتھ کندھے پر رکھا اور حسب عادت آہستہ آہستہ چلتے ہوئے فرمایا۔”میں نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ کے ممبر بنائے جانے کی اس لئے حمایت کی تھی کہ آپ اس بات پر نظر رکھیں کہ انجمن کے فیصلے شریعت کے مطابق ہوں۔آپ کو کلمہ حق کہنے سے گھبرانا یا ہچکچانا نہیں چاہیے۔“ حضرت میاں صاحب کی توقع اور اپنی کمزوریوں کے احساس سے میرا دل ندامت محسوس کر رہا تھا۔لیکن آپ کی توقع کو آپ کی دعا سمجھ کر حصول توفیق کے لئے میرے دل سے آمین کی صدا بلند ہوئی اور اسی سے رہنمائی کی درخواست کی کہ وہی ہادی اور وہی سب کا مولیٰ ہے۔“ محترم ملک صاحب فرماتے ہیں: افتا کی ذمہ داریوں کے سلسلہ میں بعض اوقات آپ بذریعہ خطوط بھی نصائح فرمایا کرتے تھے جن سے اصول اسلام اور حکمت احکام سے گہرا لگاؤ میسر آتا تھا۔ایک بار آپ نے لکھا۔دمکرمی دمحترمی ملک سیف الرحمان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاته دمجلس افتا کے غور کے لئے مضامین کا انتخاب کرتے ہوئے آپ اس اصول کو مد نظر رکھیں کہ صرف ایسے مسائل پر غور کیا جائے جو پر زور صورت میں عملاً سامنے آچکے ہوں اور آرہے ہوں۔محض پہنی طور پر علمی تحقیق کی بناء پر قبل از وقت مسائل پر غور نہ فرمائیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ ماننزله الا بقدر معلوم۔اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف اسی وقت کسی مسئلہ کے متعلق مومنوں کے دلوں میں روشنائی عطا کرتا ہے۔جب کہ کوئی مسئلہ عملی طور پر زندہ مسئلہ بن جائے اور کسی حقیقی ضرورت کا حامل ہو۔اس سے قبل غور کرنے کے نتیجہ میں انسان روشنی سے محروم رہتا ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسائل کے بعض پہلو اندھیرے میں رہے بلکہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بھی بعض پہلو مسائل کے اندھیرے میں رہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ کسی حقیقت کو قبل از وقت ظاہر نہیں فرماتا۔بلکہ وقت آنے پر اور ضرورت حقہ لاحق ہونے پر روشنی کا رستہ کھولتا ہے۔مسیح ناصری کی حیات ایک بڑی ٹھو کر اور ضلالت کا مسئلہ