حیات بشیر — Page 413
413 اور ہوتا تو ڈانٹ ڈپٹ کر کے انہیں اپنے سے دور بھگا دیتا۔مگر آپ نے اخلاق حسنہ اور معقولیت کا ایک ایسا درس دیا جو انہیں زندگی بھر یاد رہے گا۔اللہم صل علی محمد و آل محمد۔محترم ملک سیف الرحمان صاحب مفتی سلسلہ عالیہ ہمارے سلسلہ میں بہت دیر سے آئے مگر اپنی قابلیت متانت اور سنجیدگی کی وجہ سے بہت جلد ترقی کر گئے حتی کہ حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مفتی سلسلہ کے منصب جلیلہ پر سرفراز فرمایا آپ فرماتے ہیں: سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے جب اس عاجز کو سلسلہ کا مفتی مقرر فرمایا تو خاکسار ذمہ داری کے بوجھ سے سخت پریشان تھا۔تقسیم ملک کے اندوہناک اثرات نے الگ نڈھال کر رکھا تھا۔انہی ایام میں ایک دن سر راہ آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا میری پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے شفقت بھرا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا۔جس کا جذب آج بھی میں محسوس کرتا ہوں۔مسکراتے چہرے اور تبسم کناں لہجے میں فرمایا۔سلف کے نمونے کو پیش نظر رکھنے میں بڑی برکت ہے۔اس سے ساری مشکلات حل ہو جائیں گی۔افتاء کے لئے ضروری ہے کہ احمدیت کی روح سے پوری پوری واقفیت ہو۔آپ بعد میں آئے ہیں بچپن میں ماحول جو طبیعت بناتا ہے اس کا آپ کو موقع نہیں ملا، اس لئے آپ کو زیادہ محنت کرنا ہوگی۔خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور آپ کے خلفاء کے طریق عمل کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ کریں۔تب ہی آپ احمدیت کی روح کو اپنا سکیں گے۔آپ اپنے ہر لفظ کی قیمت اور اس کے اثر کو سمجھیں کہ اس مقام پر آپ کے الفاظ سے ایک کثیر تعداد متاثر ہو گی۔ذمہ داری بے شک بڑی ہے لیکن اسے پورا کرنے کی توفیق پانا بھی بہت بڑی نعمت ہے۔آپ کا لہجہ نرم تھا۔اس میں شفقت اور خیر خواہی تھی اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے راہ ورسم منزل سے واقف ایک شفیق مشیر اور ہمدرد رہنما میری مدد کو آن پہنچا ہے اور میں تنہا نہیں ہوں۔آپ کی یہ نصائح میرے لئے تسکین و سکون کا سر چشمہ تھیں۔اور ہر مشکل مرحلہ پر آپ کے مشورہ نے چراغ راہ بن کر میری رہنمائی کی۔“ محترم ملک سیف الرحمان صاحب کو جب صدر انجمن کا ممبر بنایا گیا تو یہ بھی چونکہ ایک اہم اعزاز تھا اور بہت بڑی ذمہ داری اپنے ساتھ رکھتا تھا۔اس بارہ میں بھی جو رہنمائی اور نصیحت حضرت میاں صاحب نے آپ کو کی اس کا ذکر کرتے ہوئے ملک صاحب موصوف فرماتے ہیں: