حیات بشیر — Page 389
389 عزیزم مکرم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ ممالک انڈونیشیا السلام علیکم و ورحمة اللہ وبرکاتہ آپ کا خط محررہ ۶۲۔۲۰۶ موصول ہوا۔اللہ تعالیٰ آپ کے مجوزہ جلسہ کو کامیاب کرے۔اور اسے انڈونیشیا کی جماعت ہائے احمدیہ اور دیگر مسلمان بھائیوں کے لئے مفید اور بابرکت اور نتیجہ خیز بنائے۔آمین۔انڈونیشیا وہ ملک ہے جس کی مسلمان آبادی پاکستان کے بعد دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔اس لئے وہ ہمیں طبعاً بہت عزیز ہے اور ہم اس کی دینی اور دنیاوی اور مادی اور روحانی ترقی کے لئے دن رات دعا گو ہیں۔اللہ تعالی اس ملک کی بیرونی اور اندرونی مشکلات دور فرمائے۔اور اسے ہر قسم کی ترقی سے نوازے۔اور وہ اسلام کا ایک درخشندہ گہوارہ بن جائے مگر یہ نہ سمجھیں کہ ایسی ترقی صرف دل کی خواہش اور زبان کی دعا سے حاصل ہو سکتی ہے۔بلکہ اس کے لئے دن رات کی کوشش اور پسینہ بہانا لازمی شرط ہے۔یہ درست ہے کہ خدا کی اہل تقدیر ہے کہ وہ اس زمانہ میں اسلام کو احمدیت کے ذریعہ پھر دوبارہ پہلے جیسی بلکہ اس سے بڑھ کر ترقی عطا کرے گا۔مگر یہ ترقی منہ کی پھونکوں سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے ایسی والہانہ کوشش کرنی ہو گی کہ جس سے جگر خون ہو جائے۔اور دنیا میں اسلام کی تبلیغ کا وسیع نظام قائم ہو جائے۔اور اسلام کے متعلق ان غلط فہمیوں کا قلع قمع کیا جائے جو مسیحی مشنریوں کی طرف سے پھیلائی جاتی ہیں۔بے شک تقدیر اٹل ہے مگر اس اہل تقدیر کے حصول کے لئے انسانی کوششوں کو انتہاء پر پہنچانا بھی ایک لازمی شرط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ؎ بکوشید اے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضئه ملت شود پیدا آپ جماعت کے دوستوں کو میری طرف سے نصیحت کریں کہ وہ سچا علم اور قوت عمل پیدا کریں۔اور قربانی کی روح کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے چلے جائیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اندر وہ مقناطیسی جوہر پیدا کردے جو دوسروں کو لوہے کے ہے ذرات کی طرح اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔والسلام دستخط مرزا بشیر احمد