حیات بشیر

by Other Authors

Page 388 of 568

حیات بشیر — Page 388

388 کریں۔اور ہر مصیبت زدہ کے دکھ کو دور کرنے کے لئے اس کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا سلوک کریں۔بے شک جو شخص قریب ہے وہ زیادہ قریب ہے۔مگر سچے مومنوں کو کسی سے بھی دشمنی نہیں ہونی چاہیے۔اور سارا کام امن اور نصیحت کے رنگ میں ہونا چاہیے۔اگر آپ ان چار باتوں پر پختہ طور سے قائم ہو جائیں گے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ میں ایک خاص برقی طاقت پیدا ہو جائے گی اور آپ خدا کے پیارے بن جائیں گے۔اور خدا کی نصرتوں سے حصہ پائیں گے۔لیکن خدائی نعمتوں کو دائگی کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی عورتوں اور اپنے بچوں اور آئندہ نسلوں کی بھی اچھی تربیت کریں۔انسانی زندگی بہر حال محدود ہوتی ہے۔قو میں صرف اسی طرح زندہ رہ سکتی ہیں۔کہ اگر وہ اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں۔اور انہیں ایسا بنا دیں کہ جب ہم لوگوں اور آپ لوگوں کی واپسی کا وقت آئے تو وہ ہماری جگہ لینے کے لئے تیار ہوں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا سلسلہ ختم نہ ہونے پائے۔بلکہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آپ کو فدائی مسلمان اور اچھا فرض شناس احمدی بننے کی توفیق دے۔اور آپ کی اولادیں اس نور سے حصہ ر سے حصہ پائیں جس کی شمع آپ کے سینوں میں روشن کی گئی ہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین یا ارحم الراحمین۔فقط والسلام دستخط مرزا بشیر احمد ۲۳-۴-۶۲ ۶۹ مکرم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ ممالک انڈونیشیا نے اپنے خط مؤرخہ ۶۲-۶-۲۰ میں درخواست کی کہ جماعتہائے انڈونیشیا کا سالانہ جلسه مورخه ۱۹ تا ۲۲ جولائی ۶۶۲ بوگر نامی شہر میں منعقد ہو رہا ہے جسکے لئے پیغام بھجوانے کا انتظام فرمایا جاوے۔جس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے مندرجہ ذیل خط جو پیغام پر مشتمل ہے تحریر فرمایا۔