حیات بشیر — Page 387
387 احمدیت جو خدا کی طرف سے ایک بھاری نعمت کے طور پر نازل ہوئی ہے اس کے چار بنیادی ستون ہیں۔اوّل خدا پر سچا ایمان لانا اور اس کی توحید پر پختہ طور پر قائم رہنا اور کسی کو اس کا شریک نہ سمجھنا۔نہ اُس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں اور ہر معاملہ میں اسی کی نصرت پر بھروسہ کرنا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ظاہری تدابیر سے کام نہ لیا جائے۔کیونکہ یہ تدابیر بھی خدا کی ہی پیدا کردہ ہیں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ ظاہری تدابیر اختیار کرنے کے باوجود یہ یقین رکھنا کہ جو کچھ ہوگا خدا کی نصرت سے ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا ایک پیارا خزانہ ہے جو آجکل کی مادی دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔آپ لوگ دعا اور عبادت اور محبت کے ذریعہ ޏ اس خزانہ تک پہنچنے کی کوشش کریں اور اسے اپنی تمام کوششوں کا سہارا بنائیں۔دوسرا رُکن احمدیت کی تعلیم کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہے۔یعنی آپ کو افضل الرسل اور خاتم النبیین یقین کرنا اور آپ کی لائی ہوئی شریعت قرآن مجید کو آخری شریعت سمجھنا جس کے بعد کوئی اور شریعت نہیں اور وہی ہمارے تمام دینی اور روحانی معاملات میں دائمی مشعل راہ ہے۔دوستوں کو یقین کرنا چاہیے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بغیر کسی احمدی کا ایمان پختہ نہیں ہو سکتا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو اور آپ کے احکام اور سنت کی اس طرح اتباع کرو کہ گویا آپ لوگ حضور کے وجود باجود کے ساتھ آہنی زنجیروں بندھے ہوئے ہیں اور ایک انچ ادھر اُدھر نہیں ہو سکتے۔تیسرا رکن سلسلہ احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا ہے جو حضور سرور کائنات خاتم النبین ﷺ کے دین کی خدمت کے لئے مبعوث ہوئے اور آپ کے مشن کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا۔کہ غیر مسلموں کو اسلام کی طرف کھینچیں اور مسلمانوں کو جو اسلام کی تعلیم کی طرف سے غافل ہو چکے تھے۔پھر حقیقی اسلام پر قائم کریں۔اور اسلام کو تمام دوسرے مذاہب پر غالب کر کے دکھائیں۔اور خصوصاً مسیحیت کے غلط اور مشرکانہ خیالات دنیا پر ظاہر کریں۔احمدیت کا چوتھا رکن خدمت خلق ہے یعنی آپ لوگ ساری دنیا کو اپنا بھائی سمجھیں اور ان کی ہمدردی اور خدمت میں اپنا وقت گزاریں اور ان کے دکھ کو اپنا دکھ خیال