حیات بشیر — Page 386
386 -7A اختیار کرتا ہے مگر میرے پیارے بھائیو ا مسیح ناصری کی جماعت اور مسیح محمدی کی جماعت میں فرق ہونا چاہیے۔اور آپ کی ترقیوں میں محمدی عروج کا نقشہ نظر آنا چاہیے۔پس میری نصیحت یہ ہے کہ آپ آئندہ صداقت کی اشاعت میں اپنی کوششوں اور قربانیوں کو دو چند بلکه سه چند بلکہ چہار چند کر دیں۔اور صحابہ مسیح موعود کی زندگیوں میں ہی دنیا میں روحانی انقلاب کا موجب بن جائیں اور اپنی زندگیوں میں ایسا اعلیٰ نمونہ دکھائیں۔اور اس قسم کی کشش پیدا کریں کہ لوگوں کے دل خود بخود آپ کی طرف کھچے چلے آئیں۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں اور بیویوں میں بھی نیکی کا جذبہ پیدا کریں۔تا کہ جماعت کی آئندہ نسل کا قدم آپ لوگوں کی نسبت بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اُٹھے اور جب آپ اس زندگی کا دور ختم کر کے اگلے جہان پہنچیں تو خدا اور محمد رسول اللہ علی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوں اور آپ خدا کے خاص فضلوں کے وارث بنیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین والسلام دستخط مرزا بشیر احمد مکرم محمود احمد صاحب قائمقام امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی نے اپنے خط مورخہ ۶۲-۴-۱۴ میں درخواست کی کہ جماعتہائے ضلع راولپنڈی کے عہدیداران کا ایک تربیتی اجتماع مورخہ ۴ تا ۶ رمئی ۶۲ء کو منعقد کیا جا رہا ہے۔نیز ۶ رمئی بعد دو پہر ایک تبلیغی جلسہ بھی منعقد کرنے کا پروگرام ہے۔اس تربیتی اجتماع کو اپنے پیغام و ہدایات سے نوازیں۔جس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے مندرجہ ذیل خط جو پیغام پر تحریر فرمایا : مکرمی و محترمی محمود احمد صاحب قائم مقام امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی مشتمل ہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے ضلع راولپنڈی کے عہدیداروں کے اجتماع کے موقعہ پر میرا پیغام مانگا ہے۔سو سب سے پہلے تو میں مسنون طریق پر آپ کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کا پیغام بھیجتا ہوں۔یہ پیغام بڑی رحمتوں اور برکتوں والا پیغام ہے۔اور جو دوست اس پیغام کی حقیقت کو سمجھ کر اسے سچے دل سے قبول کریں گے وہ یقیناً خدا کے فضلوں اور رحمتوں سے بڑا حصہ پائیں گے۔