حیات بشیر — Page 380
380 یہاں تک تو میں نے آپ کے چند خطوط و مراسلات بطور نمونہ درج کئے ہیں جو کسی نہ کسی رنگ میں جماعتی تربیت کے لئے مفید ہیں۔ورنہ میرے خیال میں اگر صرف آپ کے خطوط و مراسلات جمع کر کے شائع کئے جائیں تو ایک ضخیم اور مبسوط کتاب تیار ہو سکتی ہے۔آپ کے پیغامات اب یہاں آپ کے بعض ایسے پیغامات درج کئے جاتے ہیں جن سے احباب اندازہ لگا سکیں گے کہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کو دنیا کی موجودہ بے اطمینانی اور اپنے خالق و مالک سے بیگانگی کا کس قدر غم تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں پر کس قدر یقین تھا جو حضور نے احمدیت کے دنیا پر چھا جانے سے متعلق کی ہیں۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ -۶۴ محترم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا نے آپ کی خدمت میں لکھا کہ حکومت کی طرف سے جماعت ہائے انڈونیشیا کو سالانہ جلسہ منعقد کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔جس کے لئے پیغام بھجوانے کی درخواست ہے۔حضرت میاں صاحب نے مندرجہ ذیل خط جو پیغام پر مشتمل ہے تحریر فرمایا: مکرمی و محترمی شاہ صاحب بڑے لمبے عرصے کے بعد آپ کی طرف سے آپ کا خط محررہ ۶۰-۶-۲۷ موصول ہوا۔الحمد للہ کہ اب آپ کو صحت ہے اور جماعت کے احباب بھی خیریت سے ہیں۔یہ بڑے شکر کا مقام ہے کہ آپ کو جلسہ کی اجازت مل گئی ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس جلسہ کو ہر جہت سے مبارک اور مثمر ثمرات حسنہ بنائے۔آمین۔میری صحت آجکل اچھی نہیں رہتی اور کمزوری بہت بڑھ گئی ہے اور کام کی طاقت میں بھی فرق محسوس کرتا ہوں اس لئے آپ کے جلسہ کے واسطے کوئی لمبا پیغام بھیجوانے سے محروم ہوں۔البتہ جماعت انڈونیشیا کے اکرام اور ہمت افزائی کے خیال وو سے ذیل کا مختصر سا پیغام بھجواتا ہوں۔برادران جماعت احمدیہ انڈونیشیا! السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ : مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کو جماعت کے سالانہ اجتماع کی اجازت مل گئی ہے اور وہ ۲۲ تا ۲۴ / جولائی ۱۹۶۰ ء کو منعقد ہو رہا ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس اجتماع کو ہر جہت سے کامیاب اور مبارک کرے اور