حیات بشیر

by Other Authors

Page 379 of 568

حیات بشیر — Page 379

379 ہے۔جو خدا کے فضل سے بہت وسیع اور گہری ہیں اور دل پر روحانیت کا غیر معمولی اثر پیدا کرتی ہیں۔آج ملک غلام فرید صاحب کا بھی خط آیا کہ وہ اس کتاب کو پڑھ کر کئی موقعہ پر روتے رہے۔حضرت منشی صاحب مرحوم کی روایات کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا انسان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں پہنچ گیا ہے اور منشی صاحب مرحوم ایک عزیز بچے کی طرح آپ کے ارد گرد گھوم رہے ہیں۔آپ نے حضرت عرفانی کے جنازہ کے متعلق پوچھا ہے۔میں نے تو یہاں سے فوری طور پر تار بھجوائی تھی کہ جنازہ قادیان پہنچایا جائے مگر وہ اس سے پہلے حیدر آباد یا سکندر آباد میں دفن کر چکے تھے۔مگر یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ امانتاً دفن کیا ہے۔جو تاریخی مواد عرفانی صاحب کے پاس تھا واقعی یہ ایک بہت بڑا ذخیرہ تھا۔اس کے متعلق میں نے محترم سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب کو تاکیداً توجہ دلائی ہے کہ اس کی فہرست تیار کر کے اس کو محفوظ کر لیا جائے ملک غلام فرید صاحب نے اپنے خط میں ایک بات لکھی ہے جو مجھے بہت پسند آئی۔وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود کے اکثر صحابی تو ایسے تھے جنہوں نے گاہے گاہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کی اور حضور کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا۔مگر بعض دوسرے صحابی گویا درباری صحابی تھے۔جن میں سے آخر میں فوت ہونے والے عرفانی صاحب تھے۔بہر حال موت ایک ناگزیر چیز ہے۔اب خواہش ہے کہ احمدی نوجوان جو بعد میں آئے یا بعد میں پیدا ہوئے وہ قدیم درباری صحابیوں کا سا رنگ پیدا کریں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔فقط۔والسلام (مرزا بشیر احمد ) ۱۹-۱۲-۵۷ ربوه 66 یہاں پر مجھے ایک روایت یاد آگئی جو مجھ سے محترم مولوی محب الرحمن صاحب نے بیان فرمائی تھی کہ حضرت منشی صاحب موصوف فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک مرتبہ مجھے حضرت خلیفہ اسح الاول نے فرمایا کہ منشی صاحب! ہم آپ سے خوش نہیں کیونکہ آپ ہماری مجلس میں بہت کم بیٹھتے ہیں۔اس پر میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب جس کے لئے ہم آتے ہیں وہ تو ہم سے خوش ہیں آپ کی خوشی یا ناخوشی کو ہم کیا کریں۔فرمایا کرتے تھے کہ ہم ہر وقت اس تاک میں رہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر سے باہر تشریف لائیں اور ہم حضور کی زیارت اور ارشادات سے مستفید ہوں۔اس لئے ہمیں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کا بہت کم موقعہ ملتا تھا۔چنانچہ جب میں نے حضرت مولوی صاحب کو مندرجہ بالا جواب دیا تو آپ فوراً معاملہ کی تہ تک پہنچ گئے اور اسی وقت کھڑے ہو کر مجھے گلے لگا لیا اور فرمایا کہ آپ بچ کہتے ہیں۔(عبدالقادر)