حیات بشیر

by Other Authors

Page 372 of 568

حیات بشیر — Page 372

372 ایسا ہی ایک عبادت حج کی ہے۔مگر حج ایسا نہیں چاہیے کہ حرام اور حلال کا جو روپیہ جمع ہوا ہو اس کو لے کر سمندر کو چیرتا ہوا رسمی طور پر حج کر آوے اور اس جگہ کے کہلانے والے جو کچھ منہ سے کہلاتے جاویں وہ کہہ کر واپس آجاوے اور ناز کرے کہ میں حج کر آیا ہوں۔خدا تعالیٰ کا جو مطلب حج سے ہے وہ اس طرح پورا نہیں ہوتا۔اصل بات یہ ہے کہ سالک کا مرحلہ یہ ہے کہ وہ انقطاع نفس کر کے تعشق باللہ اور محبت الہی میں غرق ہو جائے۔عاشق اور محبّ جو سچا ہوتا ہے وہ اپنی جان اور اپنا دل قربان کر دیتا ہے اور بیت اللہ کا طواف اس قربانی کے واسطے ایک ظاہری نشان ہے جیسا کہ ایک بیت اللہ نیچے زمین پر ہے ایسا ہی ایک آسمان پر بھی ہے۔جب تک آدمی اس کا طواف نہ کرے اُس کا طواف بھی نہیں ہوتا۔اس کا طواف کرنے والا تو تمام کپڑے اُتار کر ایک کپڑا بدن پر رکھ لیتا ہے۔لیکن اُس کا طواف کرنے والا نزع شیاب ( کپڑے اتار کر۔ناقل) کر کے خدا کے واسطے ننگا ہو جاتا ہے۔طواف عشاق الہی کی ایک نشانی۔عاشق اس کے گرد گھومتے ہیں۔گویا ان کی اپنی مرضی باقی نہیں رہتی۔وہ اس کے گردا گرد قربان ہو رہے ہیں۔ہے۔مکرمی و محترمی مولوی عبداللطیف صاحب شاہد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۱:- آپ میری طرف سے فریضہ حج ادا کرنے کے لئے ارض حرم میں تشریف لے جا رہے ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے ذریعہ میری دیرینہ آرزو کو بصورت احسن پورا فرمائے اور آپ کے ذریعہ میرے حج کو بہترین برکات کے ساتھ قبول کرے۔اور مجھے اس کے بہترین ثواب سے نوازے اور آپ کو بھی اس کے ثواب سے۔۔۔عطا کرے۔کیونکہ آپ میرے حج کا واسطہ بن رہے ہیں۔ربـنـا تـقبل منا انك انت السميع العليم ونرجوا منك خير الثواب و خير الدنيا والآخرة۔:- جو ہدایات میں نے محترم شبیر احمد صاحب کو ام مظفر احمد کی طرف سے حج بدل کرنے کے موقعہ پر لکھ کر دی تھیں۔ان کو بھی غور سے پڑھ لیں اور انہیں ملحوظ رکھیں۔۳:-سارا سفر درد و سوز کی دعاؤں میں گزاریں اور سورۃ فاتحہ اور درود پر بہت زور دیں اور اپنے قلب میں رقت اور حضور کی کیفیت پیدا کریں۔اور ہر وقت یہ تصور رکھیں کہ آپ خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔اور اس مقدس زمین میں جا رہے ہیں۔جو