حیات بشیر

by Other Authors

Page 371 of 568

حیات بشیر — Page 371

371 پر دے۔السلام کا سچا وارث بنائے۔اور جماعت کی بہترین اور مقبول خدمت کی توفیق میں آپ کے لئے آپ کی اولاد اور اہل خانہ کے لئے دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سب پر فضل و رحمت کا سایہ رکھے۔آمین۔“ ہے ۵۹ اخویم محترم حکیم مولوی عبداللطیف صاحب شہید کو جب حضرت میاں صاحب نے اپنی طرف سے حج بدل کے لئے منتخب فرمایا تو انہیں ایک نہایت قیمتی اور زریں ہدایات ر مشتمل مکتوب لکھ کر دیا۔اس مکتوب سے اس گہرے محبت وعشق کا اظہار ہوتا ہے جو حضرت میاں صاحب کے دل میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ارض حرم کے متعلق موجزن تھا۔محترم مولوی صاحب فرماتے ہیں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ ان ہدایات کے وصول اور حصول سے پیشتر خاکسار جب کہ حج کے سلسلہ میں دعاؤں میں مشغول تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت سیدی میاں صاحب اعلیٰ اللہ مقامہ فی الجنۃ العلیا کی دعاؤں پر مشتمل ایک لمبی تحریر اخبار الفضل میں شائع ہوئی ہے جو موٹے اور نمایاں الفاظ میں ہے اور اس کے ساتھ ہی محترم مکرم برادرم شیخ عبد القادر صاحب فاضل مربی سلسلہ مقیم لاہور نے بھی کچھ عبارت کا اضافہ فرمایا ہے۔چنانچہ جس روز حضرت سیدی میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے ربوہ بس کے اڈہ سے مع احباب جماعت ربوہ مجھے حج کے لئے رخصت فرمایا۔اور خاکسار آپ سے مصافحہ اور معانقہ کر کے آپ کی مستجاب دعاؤں کے بعد احباب سے مل کر رخصت ہونے کو تھا تو جناب شیخ صاحب موصوف نے رخصت ہونے سے پہلے حضرت اقدس سیدنا مسیح الموعود عليه الصلوة والسلام کی ایک حج سے متعلق ایسی بیش قیمت تحریر نقل کر کے دی جو حج کی حقیقت کے بارہ میں حرف آخر کا حکم رکھتی ہے۔وہ درج ذیل ہے۔خاکسار حکیم عبداللطیف شہید خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس روز محترم حکیم صاحب کو الوداع کہنے کیلئے حضرت میاں صاحب اڈہ پر تشریف لائے خاکسار بھی مع اہل وعیال اڈہ پر موجود تھا۔اور اسی بس سے لاہور پہنچا تھا۔حضرت میاں صاحب کو محترم حکیم صاحب کی اس رویا کا پہلے سے علم تھا۔چنانچہ جب آپ نے یہ تحریر پڑھی تو فرمایا کہ " حج کی اصل حقیقت تو اس تحریر میں بیان کی گئی ہے خاکسار تحدیث بالنعمت کے طور پر یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ اس روز خاکسار کے بچوں نے حضرت میاں صاحب کو خوب جی بھر کر دیکھا تھا اور اب تک اسکا ذکر کرتے ہیں۔فالحمد اللہ علی ذلک۔(عبد القادر) "