حیات بشیر

by Other Authors

Page 354 of 568

حیات بشیر — Page 354

354 -۳۰ مکرم اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر بدلنے پر قادر ہے آپ کچھ صدقہ دے دیں۔“۔شیخ عبد الحفيظ صاحب (مدراس والے) کراچی نے اپنے خط میں دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ میری روحانی و جسمانی کمزوریوں کو دُور کر دے اور خدمت دین کے لئے لاکھوں روپے امام جماعت کی خدمت میں پیش کرنے کی توفیق دے۔اس خط کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ -۳۱ نیت پاک رکھیں اور عزم پختنہ۔انشاء اللہ آپ کا مقصد آپ کو حاصل ہو جائے گا۔۲۸ حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب داماد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات مؤرخہ ۱۸ ستمبر ۱۹۶۱ء کو ہوئی جس پر جماعت کے دوستوں کی طرف سے تعزیتی خطوط آنے پر آپ نے دفتر کو مندرجہ ذیل جواب املاء کروایا۔مکرمی و محترمی -٣٢ آپ کا خط محررہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔موصول ہوا۔آپ نے اخویم مکرم میاں عبد اللہ خاں صاحب کی وفات پر جو اظہار ہمدردی فرمایا ہے اس کا شکریہ قبول فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو حسنات دارین سے نوازے۔مومن کا مقام صبر کا ہے۔کیونکہ بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر ہماری ہمشیرہ کے لئے اور بھانجوں، بھانجیوں کے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کا 66 حافظ و ناصر ہو اور نیکی کے رستہ پر قائم رکھے۔والسلام مرزا بشیر احمد “ ۲۹ حضرت نواب صاحب موصوف کی وفات پر سٹاف اور طلباء فضل عمر ہوسٹل ربوہ کی طرف سے تعزیت کا خط آنے پر حضرت میاں صاحب نے انہیں مندرجہ ذیل جواب تحریر فرمایا ”خدا کرے۔آپ لوگ مرحوم جیسی نیکی اپنے اندر پیدا کریں۔وہ ایک رئیس خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود بہت نیک متقی اور پابند نماز اور تہجد گزار اور دعاؤں میں -٣٣ شغف رکھنے والے تھے اور سلسلہ کے ساتھ انتہائی اخلاص رکھتے تھے۔“ ۳۰ے مکرم محمد آفندی صاحب آف انڈونیشیا نے اپنے خط مؤرخہ ۶۱-۱۰-۲۴ میں تحریر کیا کہ انہیں ہائی بلڈ پریشر ذیا بیطیس اور دل کی دھڑکن کی تکلیف رہتی ہے ان کے لئے دُعا کی جائے۔جس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے تحریر فرمایا کہ: