حیات بشیر — Page 348
348 -10 انہیں کھاتا ہے تو یہ اس کا کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک زمانہ میں قادیان کے آوارہ کتے مروا دیے تھے۔انما الاعمال بالنیات۔اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان میں آوارہ کتوں کی بڑی کثرت ہے جو تکلیف اور خطرہ کا موجب ہے۔اصل پہلو آوارہ کتوں سے خلاصی پانا ہے۔باقی بہر حال ہر مسلمان کے لئے کتوں کا گوشت حرام ہے۔“ ۱۲ مکرم مرزا عبد الرشید صاحب کارکن تحریک جدید ربوہ نے اپنے خط مورخہ ۶۰-۴-۲۷ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تبرک حاصل کرنے کے لئے تحریر کیا۔جس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے تحریر فرمایا کہ -17 آپ کا خط ملا۔تبرکات کا معاملہ اب بہت مشکل ہے۔اگر نصف انچ کا ٹکڑا بھی اب بانٹا جائے تو جماعت میں پورا نہیں ہو سکتا۔آپ اپنے ایمان اور اعمال سے مجسم تبرک بننے کی کوشش کریں۔یہ تبرک سب تبرکوں سے بہتر ہے۔“ ۱۳ مکرم ایڈیشنل ناظر صاحب اصلاح وارشاد نے اپنی چٹھی نمبر ۱۰/ الف ۶۰-۵-۳ میں محترم مولوی قمر الدین صاحب فاضل اور خاکسار عبد القادر کے دورہ ضلع منٹگمری کی رپورٹ درج کر کے بھجوائی جس میں یہ بھی ذکر تھا کہ ان کا وفد محترم مرزا احمد بیگ صاحب (ریٹائرڈ انکم ٹیکس آفیسر) کی معیت میں محترمہ محمدی بیگم صاحبہ اور ان کے لڑکے محترم مرزا محمد اسحاق بیگ صاحب کو ملا اور محترم مرزا احمد بیگ صاحب نے محترمہ موصوفہ سے بات چیت کی اور ان کو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی دعوت دی اور یہ بھی کہا کہ میری انتہائی خوشی ہو گی کہ آپ بیعت کر لیں۔اس پر محترمہ موصوفہ نے کہا کہ میں حکم کی منتظر ہوں اور اُجالا ہونے پر ربوہ آ جاؤں گی اور آپ جلد ہی خوش ہو جائیں گے۔اس رپورٹ پر حضرت میاں صاحب نے تحریر فرمایا کہ -12 وو محترمه محمدی بیگم صاحبہ کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ ان کی والدہ اور بہن اور بہن کی اولاد اور خود ان کا اپنا ایک بچہ بھی احمدیت میں داخل ہو چکا ہے اور تحریک کرنی چاہیے کہ آپ خالی الذہن ہو کرا ستخارہ کریں۔“ ۱۴ مکرم محمد اسرائیل احمد صاحب آف کراچی نے اپنے خط مؤرخہ ۶۰-۶-۱۰ میں لکھا کہ انہوں نے عید الاضحیٰ کے موقعہ پر ایک بکری قربانی کے لئے خریدی لیکن وہ اس وقت دودھ دینے والی ثابت ہوئی ہے۔جس کی وجہ سے اُسے قربانی میں دینے کا خیال چھوڑ دیا۔اور پھر بچوں کی بیماری کی وجہ