حیات بشیر — Page 347
347 ۱۳ ہے کہ تشریح باحسان یعنی اگر جدا کرنا ناگزیر ہو جائے تو پھر نیکی اور احسان کے طریق پر جدا کر دو۔“ اے مکرم چوہدری علی قاسم خاں صاحب آف ڈھاکہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے اپنے خط مورخہ ۶۰-۴-۵ میں ایک مشورہ طلب کیا کہ کیا ان کے لئے اس وقت زندگی وقف کر دینا مناسب ہوگا یا نہیں اگر بڑھاپے میں زندگی وقف کی جائے تو یہ ایک قسم کا Re-employment وقف کے بہانہ سے ہوگا اور اگر اب وقف کیا جائے تو اس صورت میں آمدنی بہت کم ہو جائے گی۔اس صورت میں کیا کرنا چاہیے۔حضرت میاں صاحب نے جواب میں تحریر فرمایا کہ آپ کا خط موصول ہوا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آپ کے تبادے والے معاملے میں ایسا رستہ کھول دے جو اللہ کے علم میں دین و دنیا کے لحاظ سے با برکت ہو۔آمین جہاں تک وقف کا سوال ہے میں صرف اصولی مشورہ دے سکتا ہوں کہ یہ ایک بڑا نازک معاملہ ہے جس میں ثواب اور ترقی کی بھی بڑی گنجائش ہے اور ٹھوکر کھانے اور ابتلاء میں پڑنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔اس لئے بڑے غور اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد قدم اُٹھائیں۔بلکہ میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنی موجودہ ملازمت کی میعاد پوری کر کے سلسلے کی خدمت کی طرف آئیں تو آپ کے حالات کے لحاظ سے بہتر ہوگا۔ویسے مجھے آپ کا یہ جذبہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے والد مرحوم کا ورثہ پایا ہے۔ان میں خدمت دین کا بڑا جذبہ تھا۔اگر ان کی اولاد میں کوئی بچہ اس رستے کو اختیار کرے تو اس سے بڑھ کر برکت اور کیا ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کی زندگی میں اور آپ کے حالات میں اپنے فضل وکرم -۱۴ سے برکت ڈالے۔“ ال مکرم مرزا مقصود بیگ صاحب ماڈل ٹاؤن لاہور نے اپنے خط کے ساتھ اخبار امروز کا ایک تراشہ بھیج کر فتویٰ پوچھا کہ کتوں کی تجارت کے متعلق شریعت کی رُو سے کیا احکام ہیں۔فرمایا: سکتا تو حرام ہے لیکن گتوں کو مارنا جائز ہے بلکہ بعض حالات میں ضروری ہو جاتا ہے کہ کیوں کہ اُن کے پھیلنے سے بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے۔آوارہ کتوں کو باہر بھی دراصل اُن کے مارنے اور تلف کرنے کے مترادف ہے۔باقی اگر کوئی غیر مسلم بھجوانا