حیات بشیر — Page 326
326 آپ کی گرانقدر خدمات خدمات کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو سلسلہ کے اخبارات خصوصاً الفضل“ اس امر پر شاہد ہے کہ آپ نے اپنے بڑے بھائی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرح ہوش سنبھالتے ہی خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا۔چنانچہ ابھی آپ ہائی سکول کے طالب علم ہی تھے کہ آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے جذبہ سے معمور ہو کر اپنے ہم عمر لڑکوں کو وعظ و نصیحت پر مشتمل خطوط لکھنے شروع کر دیے تھے۔پھر جب کالج میں داخلہ لیا تو وہاں بھی آپ نے تبلیغ دین کے اہم فریضہ کو ادا کرنے میں کوتاہی سے کام نہیں لیا۔چنانچہ آپ کی اس وقت کی تبلیغ ہی کے نتیجہ میں بعد ازاں محترم چوہدری شمشاد علی خاں صاحب مرحوم و مغفور آف رہتک نے احمدیت قبول کی تھی۔کالج کے زمانہ میں آپ اپنے غیر احمدی دوستوں کو حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کی ملاقات اور قادیان کی زیارت کے لئے اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے جو وہاں سے بڑا عمدہ اثر لے کر لوٹتے تھے۔ابھی کالج کی تعلیم مکمل نہ ہوئی تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولانا حکیم نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے قرآن کریم پڑھنے کے جوش کے نتیجہ میں کالج کو خیر باد کہہ کر قادیان پہنچ گئے۔حضرت خلیفہ اسیح اوّل سے قرآن کریم پڑھا اور پھر وہاں ہی خدمت دین میں مصروف ہو گئے۔انجمن کے کاموں میں دلچسپی لینی شروع کی اور الفضل میں مضامین لکھنے شروع کر دیے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے وصال پر جب بڑے بھائی کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کا جلیل القدر منصب عطا کیا تو آپ نے اپنے آپ کو حضور کی غلامی میں دے دیا اور ساری عمر نہایت ہی وفاداری کے ساتھ حضور کی منشاء کے ماتحت خدمات سلسلہ بجا لاتے رہے۔حضور کی خلافت کے ساتھ ہی غیر مبائعین کا فتنہ اپنے پورے زور کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوا۔اس کو دبانے میں حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ساتھ ساتھ آپ نے بھی اپنا پورا زور قلم صرف کر دیا۔مستریوں کا فتنہ اُٹھا تو اس کی سرکوبی میں بھی آپ پیش پیش تھے۔جماعت کے جوش کو دبانے اور اسے صبر کی تلقین کرنے میں آپ نے نمایاں خدمات سر انجام دیں۔تیسرا زبردست فتنہ ۱۹۳۵ء میں احرار نے اُٹھایا تھا اور وہ فتنہ اس قدر ترقی کر گیا تھا کہ مفسدہ پردازوں نے گورنمنٹ کے بعض بڑے بڑے افسروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور جماعت کے لئے ایک زلزلہ کی صورت پیدا ہوگئی تھی۔اس زمانہ میں بھی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے اس فتنہ کے ازالہ کے لئے جو