حیات بشیر — Page 325
325 اس واقعہ سے جو قیمتی سبق آپ نے جماعت کو دیا۔وہ ہمیشہ کے لئے جماعت کی رہنمائی کا کام دیتا رہے گا۔اطاعت امام میں آپ کی محویت کا یہ عالم تھا کہ ۱۹۶۲ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر آپ کی طبیعت کافی مضمحل تھی اور ضعف اور ناطاقتی کے باعث جلسہ سے خطاب کرنے کی طاقت نہیں پاتے تھے۔چنانچہ آپ نے جو مضمون ”ذکر حبیب“ کے موضوع پر جلسہ میں بیان کرنے کے لئے تیار کیا تھا وہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کو سنانے کے لئے بھیج دیا۔مگر جو پیغام سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اہل جلسہ کے لئے آپ کو بھیجا تھا وہ ، آپ نے خود جلسہ گاہ میں تشریف لے جا کر سنایا۔محترم مولانا محمد یعقوب صاحب فاضل انچارج صیغه زود نویسی ربوہ نے فرمایا کہ حضرت میاں صاحب کی اطاعت امام کا آپ اس امر سے اندازہ لگا لیں کہ تقسیم ملک کے بعد ایک لمبے عرصہ تک حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے خضاب لگانا ترک کر دیا تھا۔ان دنوں حضور ایک اضطراب کے عالم میں شب وروز اس سرگرمی کے ساتھ کام میں مشغول رہتے تھے کہ بسا اوقات رتن باغ (لاہور) میں اوپر سے ننگے پاؤں نیچے آجاتے اور گھنٹوں برہنہ سر اور برہنہ پاؤں ٹہلتے اور سوچتے اور دعائیں کرتے اور خدام کو ہدایات دیتے اور رپورٹیں منگواتے غرض ایک عجیب کیفیت تھی جو میں نے بھی حضور میں دیکھی۔ان ایام میں آپ کو خضاب لگانے کا کیا خیال آسکتا تھا۔حضور نے خضاب لگانا بند کر دیا اور رات دن کام میں انہاک جاری رکھا۔میں نے دیکھا کہ ان ایام میں حضرت میاں صاحب نے بھی خضاب لگانا ترک کر دیا تھا۔لیکن جب ایک لمبے عرصہ کے بعد حالات معمول پر آگئے اور حضور نے دوبارہ خضاب لگوانا شروع کر دیا تو حضرت میاں صاحب بھی خضاب لگانے لگ گئے۔اس کے بعد جب موجودہ بیماری میں حضور نے خضاب ترک کیا تو حضرت میاں صاحب نے بھی خضاب لگانا بالکل ترک کر دیا۔یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے اور مجھے کامل یقین ہے کہ یہ سب کچھ حضور کی متابعت کی وجہ سے تھا۔میں سمجھتا ہوں۔اطاعت امام کے بارہ میں جو چند مثالیں اوپر بیان کی گئی ہیں وہ جماعت کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کی رہنمائی کے لئے مشعل راہ کا کام دیں گی۔احباب کو چاہیے کہ وہ خلیفہ وقت کی اطاعت اور احترام کے بارہ میں حضرت میاں صاحب کے اسوۂ حسنہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔