حیات بشیر — Page 327
327 انتظامات کئے گئے تھے۔ان کے سرگرم رہنما بھی آپ ہی تھے۔پھر مصری صاحب نے ایک فتنہ کھڑا کیا۔اس فتنہ کے ازالہ کے لئے جو تدابیر اختیار کی گئیں اُن میں بھی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے دست راست آپ ہی تھے۔پھر ۱۹۴۷ ء میں ملک کی تقسیم کے وقت جو زلزلہ عظیمہ آیا اور جس نے جماعت کو ایک سخت ابتلاء میں ڈال دیا بھارتی حکومت نے جماعت کے بعض لیڈروں کو گرفتار کر لیا اور بعض کی گرفتاری کے لئے مناسب موقعہ کی انتظار کی جانے لگی۔اس وقت بھی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے لاہور تشریف لے جاتے وقت اپنے بعد قادیان کا مقامی امیر آپ ہی کو مقرر کیا تھا اور اس نازک دور میں ایک بیدار مغز اور چوکس لیڈر کی طرح جو خدمات آپ نے سر انجام دیں وہ آپ ہی کا حصہ تھیں حتی کہ ایک دن جب یہ اطلاع ملی کہ آپ کی گرفتاری کے بھی احکام جاری ہو چکے ہیں تو آپ نے اپنے پیچھے حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ایم اے کو امیر مقرر کر کے انہیں ہر قسم کی ہدایات دے دیں اور تمام ضروری اشیاء ان کے حوالہ کر دیں اور قضاء و قدر کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کر کے اپنی گرفتاری کے لئے بالکل تیار ہو گئے۔مگر قربان جائیے اس احکم الحاکمین ذات پر کہ اس نے آپ کی حفاظت کے لئے یہ سامان کیا کہ شام سے قبل ایک کنوائے آپ کو لاہور پہنچانے کے لئے پہنچ گیا اور جب ریڈیو پاکستان پر آپ کے لاہور پہنچنے کا اعلان ہوا تو جملہ احمدیوں کے دل سکینت اور اطمینان سے لبریز ہو گئے۔مگر لاہور پہنچ کر بھی آپ چین سے نہیں بیٹھے۔حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ہدایت کے مطابق حفاظت مرکز اور خدمت درویشان کے لئے جو محکمہ بنایا گیا اس کے انچارج بھی شروع سے لے کر تا یوم وصال آپ ہی رہے۔اس زمانہ میں قادیان کے درویشوں کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔جو وفود قادیان بھجوائے جاتے تھے یا جن احباب کو قادیان سے پاکستان میں بلوایا جاتا تھا۔اس سارے انتظام کا بار آپ ہی کے کندھوں پر تھا۔پھر قادیان جانے کے لئے احباب کو تحریک کرنا، پاسپورٹس اور ویزے بنوانے میں امداد دینا، جلسہ سالانہ اور دیگر مواقع پر قادیان جانے آنے کا انتظام کرنا سب امور آپ ہی کے ذمہ تھے۔درویشان قادیان کے اہل وعیال مقیم پاکستان کی خبر گیری کی ذمہ داری بھی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے آپ ہی کو سونپی گئی تھی۔میں بھول گیا۔مظلوم کشمیریوں کو مہاراجہ کشمیر سے انسانی حقوق دلوانے کے لئے مسلمانان ہند نے جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنائی تھی اور جس کی صدارت کے فرائض حضور ایدہ اللہ کو تفویض کئے گئے تھے اس وقت بھی حضور کے بہترین مشیر اور معاون آپ ہی تھے۔