حیات بشیر

by Other Authors

Page 324 of 568

حیات بشیر — Page 324

324 ربوہ میں ایک خطبہ جمعہ میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت کو زندگیاں وقف کرنے کی طرف توجہ دلائی اور خدمت دین کی اہمیت کو ظاہر کیا اور ساتھ ہی خاندان کے بعض افراد کو تنبیہ فرمائی کہ انہوں نے خدمتِ دین کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور اپنی زندگیاں سلسلہ کے لئے پورے طور پر وقف نہیں کیں۔یہ خطبہ ایسا تھا کہ سب کے دل دہل گئے۔جماعت احمدیہ کے لئے عموماً اور حضرت میاں صاحب کے لئے خصوصاً یہ حادثہ بڑا سخت تھا۔نماز کے بعد میں حسب معمول حضرت میاں صاحب کے گھر گئی اور مجھے خیال آتا تھا کہ آپ ضرور اس خطبہ کے متعلق کچھ ذکر کریں گے۔مگر میں نے آپ کی زبان مبارک سے ایک ایسا لفظ بھی شکوہ کا نہ سنا اور نہ ہی آپ نے ان عزیزوں کی بریت کا اظہار کیا۔وہ اس وقت صدق و وفا کا مجسمہ نظر آرہے تھے۔جس کو دیکھ کر میرے اطاعت کے جذبہ میں ترقی ہوئی اور مجھے میرے دل نے کہا کہ یہ ہے اطاعت کا مطلب۔ہر وقت انسان اپنے آپ کو قربانی کا بکرا خیال کر کے در حبیب پر سر ، پر سرتسلیم خم کئے رکھے۔اسی طرح مجھے قادیان کے وہ دن بھی یاد ہیں۔جب میں اپنی نانی اماں مرحومہ کے ہمراہ آپ کے گھر جاتی تو آپ سب سے پہلے میری نانی اماں مرحومہ کو مخاطب کر کے دریافت فرماتے۔کیا حضرت صاحب سے مل آئی ہو؟ یہ ایک دفعہ نہیں بلکہ ہر دفعہ یوں ہی ہوتا۔یعنی حضرت میاں صاحب یہ بھی پسند نہیں فرماتے تھے کہ حضرت صاحب پہلے کوئی شخص مجھ سے آکر ملے۔اللہ اللہ ! یہ ہی جذبہ اطاعت تھا جس نے آپ کی ہستی کو چار چاند لگا دیے تھے۔“ ۱۴ اسی قسم کا ایک واقعہ محترم فیض الحق خاں صاحب سکنہ کوئٹہ نے لکھا ہے۔وہ فرماتے ہیں: مجھے یاد ہے کہ بعض مصالح کی بنا پر جن کا بیان کرنا ضروری نہیں جماعت کوئٹہ نے بعض معاملات کے متعلق حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا اور اس خیال سے کہ یقینی طور پر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہو جاوے۔حضرت میاں صاحب کی معرفت ارسال کر دیا۔حضرت میاں صاحب نے وہ خط جماعت کو واپس کر دیا اور فرمایا کہ حضرت صاحب کا خط کسی کی معرفت ارسال کرنا خلاف ادب ہے۔‘ ۱۵۔