حیات بشیر — Page 323
323 اپنی صحیح رائے بیان کرے اور اطاعت کا تقاضہ یہ ہے کہ جب صاحب امر اس کے خلاف فیصلہ کر دے تو پوری تسلیم و رضا کے ساتھ اس پر عمل کرے۔یہی مذہب تھا جس پر آپ ہمیشہ عمل پیرا رہے“۔خاکسار راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ خاکسار کے سامنے بھی ایک مرتبہ آپ نے جبکہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ سیر کو جانے کے لئے اپنی کوٹھی البشری کے برآمدہ میں تیار ہو کر تشریف فرما تھے۔یہی بات بیان فرمائی تھی۔مکرم سید مختار احمد صاحب ہاشمی بھی اس بیان کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک دن حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ جو شخص امام وقت کے ایسے حکم کی اطاعت کرتا ہے جس کو اس کا اپنا دل اور دماغ بھی تسلیم کرتا ہے تو یہ اطاعت در حقیقت امام وقت کی اطاعت نہیں کہلا سکتی بلکہ یہ تو اس کے اپنے دل و دماغ کی اطاعت ہے۔دراصل امام وقت کی اطاعت یہ ہے کہ وہ امام وقت کے ایسے حکم کو انشراح صدر سے تسلیم کرے جس کو بظاہر اس کا دل اور دماغ ماننے کو تیار نہ ہو۔چنانچہ حضرت میاں صاحب نے اسی مفہوم کو ایک موقعہ پر اپنی ایک چٹھی میں بھی بیان فرمایا ہے جس کا ضروری اقتباس درج ذیل ہے: ہم نے تو روحانیت کا شروع سے یہی سبق سیکھا ہے کہ اگر امام کی طرف سے کسی غلط فہمی کے نتیجہ میں کوئی سزا دی جائے تو اُسے بشرح صدر قبول کرنے میں ہی برکت ہے۔مجھے یاد ہے کہ خود مجھے بھی ایک دفعہ قادیان کے زمانہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک معاملہ میں -/۳۲ روپے کا حرجانہ ڈالا تھا اور میں یقین رکھتا تھا کہ حضور کا یہ فیصلہ غلط فہمی پر مبنی ہے مگر میں خاموش رہا اور جرمانہ ادا کردیا۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے نتیجہ میں برکت دی پس آپ لوگ ان برکتوں سے کیوں اجتناب کرتے ہیں انسان کی تربیت کا یہ بھی ایک بھاری ذریعہ ہے کہ وہ بعض باتیں اپنے مزاج کے خلاف قبول کرنے کی عادت ڈالے۔۱۳ محترمہ امتة الشافی صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ پشاور آپ کی اطاعت امام کی کا ذکر کرتے 66 ہوئے۔لکھتی ہیں: