حیات بشیر

by Other Authors

Page 318 of 568

حیات بشیر — Page 318

318 ایام تھے۔ابھی آپ کو لاہور نہیں لے جایا گیا تھا۔ایک رات خاکسار بھی وہاں آن ڈیوٹی تھا۔رات کے ایک یا دو بج چکے تھے تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالی کی خدمت میں مریضہ کی حالت کی رپورٹ بھجوائی جاتی تھی۔اس وقت خاکسار کے منہ سے سادگی سے بعض الفاظ ایسے نکل گئے جنہیں ڈاکٹر صاحب نے (جو وہاں علاج معالجے کے سلسلہ میں آن ڈیوٹی تھے ) گستاخی پر محمول کیا۔حضرت میاں صاحب مرحوم و مغفور رضی اللہ عنہ بھی حضرت ام طاہر کے بالائی صحن میں ٹہل رہے تھے۔تھوڑا وقت ہی گذرا تھا کہ حضرت میاں صاحب میرے پاس آئے اور پوچھا کہ تم نے ڈاکٹر صاحب کو کیا کہا تھا خاکسار نے سارا واقعہ عرض کر دیا فرمایا ڈاکٹر صاحب ناراض ہو گئے ہیں۔وہ دیکھو! انہوں نے وہ سامنے رقعہ لکھا ہے جس میں حضور کی خدمت میں تمہاری شکایت کی ہے۔تم فوراً میرے سامنے ڈاکٹر صاحب کو پکڑ لو اور معافی مانگ لو۔میں سفارش کروں گا۔میرے ہوش اُڑ گئے کہ کہیں حضور کے پاس میری شکایت نہ ہو جائے۔فوراً بصد منت محترم ڈاکٹر صاحب سے معافی مانگی۔حضرت میاں صاحب نے سفارش کی اور آخر ڈاکٹر صاحب کو معافی دینے پر آمادہ کر لیا اور وہ رقعہ اُن سے لے لیا پوری محترم ملک حبیب الرحمن صاحب ڈپٹی انسپکٹر آف سکولز سرگودھا ڈویژن تحریر فرماتے ہیں: ڈیڑھ دو سال کی بات ہے کہ میرے ایک عزیز کو سلسلہ کی طرف سے کچھ سزا ملی۔عزیز کو یہ گلہ تھا کہ سزا کی سفارش کرنے والے افسروں اور اداروں نے معاملات کی تفتیش نہیں کی اور جانب داری سے کام لیا ہے۔اس لئے وہ یہ چاہتے تھے کہ حضرت میاں صاحب بحیثیت صدر نگران بورڈ تحقیقات کریں۔انہوں نے مجھے اس امر پر مامور کیا کہ میں حضرت میاں صاحب سے اس بارے میں تذکرہ کروں۔اور لکھ کر بھی دیا۔حضرت میاں صاحب نے تمام واقعات سن کر فرمایا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس دوست کی اکثر باتیں درست ہیں اور تحقیقات پوری طرح ہونی چاہیے تھی لیکن چونکہ سزا امام وقت کی طرف سے ہے لہذا وہ دوست بلا شرط معافی مانگیں۔اس کے بعد ان کے عذرات کی طرف توجہ دی جائے گی اور جب انہوں نے معافی نامہ لکھدیا لیکن آخر میں یہ بھی لکھا کہ معافی کے بعد وہ اس ادارہ کے برخلاف چارہ جوئی کا حق محفوظ