حیات بشیر — Page 319
319 رکھتے ہیں۔تو حضرت میاں صاحب کی ایمانی غیرت اور اطاعت امام کے جذبہ نے اس آخری فقرہ کو بھی قبول نہ فرمایا۔حتی کہ اس دوست نے بلا شرط معافی نامہ لکھ دیا اور آپ نے نہایت پیار بھرے دل کے ساتھ حضرت کے حضور سفارش کر کے انہیں معافی دلا دی۔اس سے عزیز کی ایمانی حالت میں یقیناً بہت ترقی ہوئی اور انہیں جو گلہ تھا وہ بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔“ کے حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب فرماتے ہیں: (ابا جان) حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے بھی بیحد محبت کرتے تھے اور حضور کے خلافت پر فائز ہونے کے بعد اپنا جسمانی رشتہ اپنے نئے رُوحانی رشتہ کے ہمیشہ تابع رکھا۔دینی معاملات کا تو خیر سوال ہی کیا تھا۔دنیاوی امور میں بھی یہی کوشش فرماتے تھے کہ حضور کی مرضی کے خلاف کوئی بات نہ ہو۔حضور کی تکریم کے علاوہ کمال درجہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نمونہ پیش کرتے تھے۔میں نے اس کی جھلکیاں بہت قریب سے گھریلو ماحول میں دیکھی ہیں۔آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کا رنگ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہ نبض دل کے تابع ہو۔عمر بھر اس تعلق کو کمال وفاداری سے نبھایا۔اور اس کیفیت میں کبھی کوئی رخنہ پیدا نہ ہونے دیا۔مجھے یاد ہے۔ایک مرتبہ میرے ایک بھائی پر حضور ناراض ہو گئے اور اس ناراضگی کا الفضل میں اعلان بھی فرمایا۔ابا جان نے مشورہ کے لئے ہم سب کو اکٹھا کیا بچوں کے علاوہ جو احباب اس وقت موجود تھے ان میں ہمارے چچا جان حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ) اور غالباً مکرمی درد صاحب بھی شامل تھے۔میں نے پہلی مرتبہ روتے ہوئے ابا جان کو اس مجلس میں دیکھا۔بڑا کرب اور قلق تھا اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنی اولاد کی دنیوی حالت کی نہ خبر ہے نہ فکر اور شاید میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ مجھے کبھی بھی دلچسپی نہیں پیدا ہوئی کہ مظفر کی تنخواہ کیا ہے۔لیکن باوجود اس تکلیف کے حضور کی خدمت میں کوئی درخواست پیش نہ کی اور شاید اس جذبہ سے نہ کی کہ آپ کی طرف سے ایسی تحریر انتظامی اور جماعتی معاملات میں مداخلت تصور نہ ہو۔البتہ میرے متعلقہ بھائی کو بار بار اور تاکیداً تلقین کی کہ حضور سے معافی کی درخواست اور استدعا کرتے