حیات بشیر

by Other Authors

Page 317 of 568

حیات بشیر — Page 317

317 صاحب محترم نے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر مزید تعلیم کے متعلق مشورہ دینے کی درخواست کی۔آپ نے والد صاحب کی مالی حالت کے پیش نظر اس مشورے کا اظہار فرمایا کہ کالج کی تعلیم دلانے کی بجائے بہتر ہے کہ عزیز کی زندگی کو کسی اور نہج پر کامیاب کیا جائے۔آپ نے اس رائے کے حق میں کچھ دلائل بھی دیئے۔لیکن جب والد صاحب نے حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کا خط جس میں حضور نے میرے متعلق کالج میں مزید تعلیم دینے کا ارشاد فرمایا تھا۔پیش کیا تو آپ نے احتراماً اپنے مشورہ کا رُخ فوراً بدل دیا اور مختلف کالجوں کے کوائف کا ذکر کرنے کے بعد کالج کپور تھلہ کو ترجیح دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کالج میں داخلہ لے لیا جائے۔چنانچہ خاکسار رندھیر کالج میں داخل ہوگیا۔سیدی المحترم نے اس طریق سے اطاعت اندھیر (امام) کا جو نمونہ دکھایا وہ ہمیشہ کے لئے ہمارے واسطے مشعل راہ ہے۔“ وجہ محترم پروفیسر بشارت احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں: قادیان کے زمانے کا ذکر ہے۔اسمبلی کے الیکشن کا موقعہ تھا۔الیکشن کے سلسلہ میں قادیان پولنگ کا جملہ انتظام جس کا رکن کے سپرد تھا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی پر خوش نہ ہوئے بلکہ ناراضگی کا اظہار کیا۔اگلے روز ایک مجلس میں حضرت میاں صاحب کے پاس خاکسار بیٹھا تھا۔الیکشن کے سلسلہ میں ہی باتیں ہو رہی تھیں۔میرے منہ سے کچھ اس قسم کے الفاظ نکلے کہ واقعی فلاں صاحب کی سستی یا غفلت کی سے کافی نقصان ہوا۔حضرت میاں صاحب کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور فرمایا ان کی جگہ اگر آپ ہوتے تو کیا وہ سب کچھ کر لیتے جو حضور چاہتے ہیں۔پھر مشفقانہ لہجے میں نصیحت فرمائی کہ امام وقت کا حق ہوتا ہے کہ وہ ہماری کسی سستی و غفلت پر تنبیہ کرے لیکن ہر کس و ناکس کا حق نہیں کہ وہ حرف گیری کرے بلکہ اپنی فکر کرنی چاہیے کہ میں نے کیا کیا ہے۔‘ ھے اس مواقعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت میاں صاحب کے دل میں امام وقت کی کس قدر عزت اور احترام تھا۔ایک دوسرا واقعہ بھی محترم پروفیسر صاحب موصوف ہی کا ہے جس سے ظاہر ہے کہ آپ حضرت اقدس کی ناراضگی کو کس قدر وزن دیتے تھے۔پروفیسر صاحب کا بیان ہے کہ وو اغلباً ۱۹۴۳ء کا واقعہ ہے۔حضرت ام طاہر مرحومہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے آخری