حیات بشیر — Page 316
316 وو ہے۔دو کا رنگ رکھتی حالانکہ آپ صرف خلیفہ وقت ہی نہیں بلکہ مصلح موعود بھی ہیں۔آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت عمرؓ کے متعلق بھی یہی اعتراض پید ا ہوا تھا۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ اعتراض کبھی نہیں ہوا۔علاوہ ازیں سخت گیری کی پالیسی تو ایک طرح سے مصلح موعود کی نشانی ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں میں صاف آتا ہے کہ مصلح موعود ” جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔“ پس گھبراؤ نہیں اور اپنے دل کو ذرا کڑا کر کے رکھو کیونکہ یہ جلال الہی خدائی منشاء کے مطابق ہے اور جماعت کی بہتری کے لئے ہے۔“ آپ کا یہ جواب سنکر اس دوست نے کہا کہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے دلی اخلاص اور عقیدت رکھتا ہوں صرف تشریح اور تسلی کے خیال سے پوچھتا ہوں کہ مصلح موعود کے متعلق حلیم“ کا لفظ بھی تو آیا ہے اور بظاہر یہ تختی حلم اور بردباری کے طریق کے خلاف نظر آتی ہے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ الہامات میں آپ کے متعلق صرف حلیم کا لفظ نہیں آتا بلکہ آپ کو دل کا حلیم کہا گیا ہے۔پس یقیناً یہ استعمال بے وجہ نہیں ہو سکتا۔اس مختصر تشریح سے اس دوست کی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے زیرک تھے۔آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے نہایت درجہ شکریہ کے رنگ میں کہا کہ آپ نے مجھے ایک بھاری خلجان سے بچا لیا ہے۔حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ ایک مستجاب الدعوات اور صاحب کشف و رؤیا بزرگ تھے۔انہیں ۱۹۵۱ ء میں جبکہ وہ قادیان میں بصورت درویش مقیم تھے الہام ہوا ” سب کو چھوڑو۔خلیفے کو پکڑو سے یہ الہام انہوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو بھی لکھ دیا۔اس پر آپ نے اُن کا یہ الہام الفضل“ میں شائع کرواتے ہوئے دوستوں سے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں گے۔آپ کا اس الہام کو خاص طور پر شائع کروانا بتاتا ہے کہ آپ اطاعت امام کو ہی جماعتی ترقی کا واحد ذریعہ سمجھتے تھے۔محترم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی مرحوم کا بیان ہے کہ 1934ء کا واقعہ ہے خاکسار نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے کالج میں مزید تعلیم حاصل کرنے کا ارشاد فرمایا۔والد