حیات بشیر

by Other Authors

Page 315 of 568

حیات بشیر — Page 315

315 ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی اس کی نظیر دوسرے صحابہ کرام میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کا تھا اور حضرت مولانا حکیم صاحب کو جب اللہ تعالیٰ نے خلعت خلافت سے سرفراز فرمایا تو آپ کے زمانہ میں یہ فخر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو حاصل ہوا۔اور جب ہم حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے زمانہ خلافت کا مطالعہ کرتے ہیں تو واقعات کی شہادت سے یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ آپ کے زمانہ میں اس مقام کے حامل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تھے۔جولائی ۱۹۳۵ ء کا واقعہ ہے جبکہ حضرت امیر المؤمنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تبدیلی آب وہوا کے لئے ڈلہوزی تشریف لے جاتے ہوئے اپنے بعد پہلی مرتبہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کو مقامی امیر مقرر فرمایا۔آپ فرماتے ہیں: ” میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کر دیا تھا کہ میں اپنی بہت سی کمزوریوں کی وجہ سے اس عہدہ کا اہل نہیں ہوں لیکن حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصره العزیز نے غالباً میری بہت سی کمزوریوں سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اپنے اس فیصلہ میں تبدیلی مناسب نہ سمجھی اور مجھے یہ بار اُٹھانا پڑا۔“ مقامی امارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے سے پہلا کام آپ نے یہ کیا کہ مقامی امیر کی پوزیشن کے زیر عنوان آپ نے ایک مضمون لکھا جس میں جماعت پر یہ امر واضح فرمایا کہ گو قادیان کا امیر اپنے حلقہ میں حضرت خلیفہ اسی کا قائم مقام ہوتا ہے مگر اس کی پوزیشن ایسی ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقامات میں مقامی امیروں کی۔اُسے کوئی زائد مقام یا زائد مرتبہ دوسرے مقامی امیروں پر حاصل نہیں۔اسی طرح آپ نے بیرونی احباب کو توجہ دلائی کہ ان کا قادیان کے امیر کے ساتھ اُن امور میں خط وکتابت کرنا جن میں وہ پہلے حضرت صاحب کے ساتھ خط وکتابت کیا کرتے تھے کسی طرح بھی درست نہیں۔اے اب میں آپ کی زندگی کے ان چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کرتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اطاعت امام کے سلسلہ میں آپ کو ایک عدیم النظیر مقام حاصل تھا۔ء کا واقعہ ہے کہ ایک دوست نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالی بسا اوقات اپنے ماتحت کارکنوں پر ایسی سخت گرفت فرماتے ہیں جو بظاہر درشتی