حیات بشیر — Page 304
304 اُوپر اُٹھاتا ہے اور ہم نیچے کی طرف جھکتے ہیں۔تو احسان کرتا ہے اور ہم ناشکری میں وقت گزارتے ہیں مگر پھر بھی ہم بہر حال تیرے ہی بندے ہیں۔پس اگر تو یہ جانتا ہے کہ ہم باوجود اپنے لا تعداد گناہوں اور کمزوریوں کے تیری حکومت سے باغی نہیں اور تیری اور تیرے رسول اور تیرے مسیح کی محبت کو خواہ وہ کتنی ہی کمزور ہے اپنے دلوں میں جگہ دیتے ہیں تو تو اس رمضان کو اور اس کے بعد آنیوالے رمضان کو ہمارے لئے اور ہمارے عزیزوں اور دوستوں کے لئے اور ہماری ان نسلوں کے لئے جو آگے آنیوالی ہیں مبارک کر دے اور ہمیں اپنا وفادار بندہ بنا اور ہمیں اسلام اور احمدیت کی ایسی خدمت کی توفیق عطا کر جو تجھے خوش کرنے والی ہو اور ہمارے 66 انجام کو بخیر کر “ ۱۰۵۔قبولیت دعا کی ایک مثال آپ کی دعاؤں کی قبولیت کی صرف ایک مثال عرض کرتا ہوں۔آپ کے خسر حضرت مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری ایک لمبے عرصہ تک غیر مبائعین کے ساتھ منسلک رہے مگر آخر آپ کی دعاؤں کی برکت سے انہوں نے صدق دل سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کر لی۔آپ فرماتے ہیں: ”جب میں نے کتاب ”سلسلہ احمدیہ لکھی تو اس تصنیف کے دوران جب میں سلسلہ کی تاریخ کے اس حصہ میں پہنچا جو غیر مبائعین کے فتنہ سے تعلق رکھتا ہے تو اس وقت یہ حقیقت اپنی اتنہائی تلخی کے ساتھ میرے سامنے آئی کہ میرا ایک نہایت ہی قریبی بزرگ ابھی تک خلافت حقہ کے دامن سے جدا ہے اور میں نے اس رسالہ کے لکھتے لکھتے یہ دعا کی کہ خدایا تو ہر چیز پر قادر ہے۔اگر تیری تقدیر مانع نہیں۔تو انہیں حق کی شناخت عطا کر اور ہماری اس جدائی کو دور فرما دے۔میں اپنے خدا کا کس منہ سے شکر ادا کروں کہ ابھی رسالہ کی اشاعت پر ایک مہینہ بھی نہیں گذرا تھا کہ ہمارے خدا کی مخفی تاریں حضرت مولوی صاحب کو بھینچ کر قادیان لے آئیں اور وہ چھبیس سال کی لمبی جدائی کے بعد بیعت خلافت سے مشرف ہو گئے۔فالحمدلله على ذلك ولاحول ولاقوة الا بالله العلى العظيم۔