حیات بشیر — Page 305
305 آپ کی منتخبہ چالیس دعائیں مکرم چوہدری مختار احمد صاحب ایاز ٹانگانیکا مشرقی افریقہ لکھتے ہیں کہ جولائی ۱۹۵۷ء میں خاکسار نے ادعية الفرقان۔ادعية الرسول اور ادعية المسیح الموعود کو ایک جلد میں مجلد کر کے سیدی حضرت میرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رہنمائی حاصل کرنے کے لئے پیش کیا آپ نے اس مجلد کے سرورق پر اپنے قلم سے تحریر فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم وعلى عبده المسيح الموعود محمد ونصلی علی رسولہ الکریم آپ نے بہت اچھا کیا کہ ادعیۃ الفرقان اور ادعیة الحدیث اور ادعية المسیح الموعود کے رسالہ جات جلد کرا لئے۔اس مجلد کو ہمیشہ سفر و حضر میں اپنے ساتھ رکھئے اور مسنون دعاؤں پر زور دے کر اُن کی برکات سے فائدہ اٹھائیے۔جو دعائیں یہ خاکسار زیادہ پڑھا کرتا ہے ان پر میں نے سرخی سے نشان کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے قلب میں دعاؤں کا ذوق وشوق پیدا کرے اور انہیں قبولیت کے شرف سے نوازے کیونکہ دعا روحانیت کی جان ہے۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۵/ جولائی ۱۹۵۷ء“ ذیل میں ادعیہ کی وہ فہرست اختصاراً پیش کرتا ہوں جن پر حضرت میاں صاحب نے نشان لگائے تھے: ادعية الفرقان: ١- سورة فاتحه ۲- ربنا اتنا في الدنيا حسنةً ۳- غفرانک ربنا۔۔۔۔۴- ربنا لا تؤاخذنا۔۔۔۔۵ - ربنا لا تزغ قلوبنا۔۔۔۔۔- ربنا اغفر لنا ذنوبنا - ربنا اننا سمعنا منادياً۔۔۔۔۔- ربّ اجعلني مقيم الصلواة۔۔۔۔۔۔- رب ارحمهما ۹ ا - ربنا اتنا من لدنک رحمة۔۔۔۔۱۱ - رب اشرح لي صدري۔۔۔۔۱۲ - ربّ زدنی علما۔١٣ - لا اله الا انت سبحانک۔۱۴ - ربّ اغفر وارحم۔۱۵- ربنا هب لنا من ازواجنا۔۔۔۔۱۲ - ربّ اوزعنى ان اشكر۔۔۔۔۷ ۱ - ربنا اتمم لنا