حیات بشیر — Page 303
303 حضرت میاں صاحب نے دو منٹ سوچنے کے بعد فرمایا کہ اچھا اگر لائبریری کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور دونوں حصے الگ الگ جگہ رہیں تو پھر تو کچھ جھگڑا نہیں ہوگا؟ میں نے عرض کیا کہ پھر جھگڑا کیوں ہو گا؟ چنانچہ حضرت میاں صاحب نے فوراً حکم دیا کہ لائبریری دو حصوں میں تقسیم کر دی جائے۔ایک حصہ کا انچارج محمد اسماعیل رہے اور ایک حصہ کے لائبریرین حکیم غلام حسین رہیں۔میرے حصہ کی لائبریری مسجد مبارک کے نیچے کے کمروں میں (بالمقابل بیت المال) آگئی اور حکیم صاحب کے حصہ کی لائبریری ان کمروں میں رہی جو بک ڈپو تالیف و اشاعت کی پشت پر کنوئیں کے پاس تھے۔اس طرح ان روز روز کے جھگڑوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا۔“ ۱۰۳ دُعاوں میں انہماک یہ دُعا کی کہ دعاؤں میں انہماک کا یہ عالم تھا کہ آپ نے متعدد مرتبہ جماعت کے تمام افراد کے لئے ”خدایا! تو ایسا فضل کر کہ ہمارے وہ سب عزیز جن کے ساتھ ہمیں محبت ہے اور وہ سب لوگ جنہیں تیرے ساتھ محبت ہے یعنی تیرے وہ بندے جو احمدیت کی پاک لڑی میں محبت اور اخلاص کے ساتھ پروئے ہوئے ہیں ان کی زندگیاں تیری رضا کے ماتحت گذریں اور (اگر) ان سے کوئی گناہ سرزد ہوتو اے ہمارے رحیم و مہربان آقا! تو اس وقت تک اُن سے موت کو روکے رکھ جب تک کہ تیری قدرت کا طلسمی ہاتھ انہیں اُن کے گناہوں سے پاک وصاف کر کے تیرے قدموں میں حاضر ہونے کے قابل بنا دے۔تاکہ ان کی موت عروسی جشن والی موت ہو اور وہ تیرے دربار میں اپنے گناہوں سے ڈھل کر اور پاک وصاف ہو کر پہنچیں۔اے خدا! تو ایسا ہی کر۔ہاں تجھے تیری اس عظیم الشان رحمت کی قسم ہے جو تیرے پاک مسیح کی بعثت کی محرک ہوئی کہ تو ایسا ہی کر۔آمین رب العالمین۔“ ۱۰۴ اسی طرح آپ نے ایک رمضان کے موقعہ پر یہ دعا فرمائی کہ ”اے ہمارے آسمانی آقا! ہم تیرے بہت ہی کمزور اور نالائق بندے ہیں۔ہم تیری طرف سے انعام پر انعام دیکھتے ہیں اور کمزوری پر کمزوری دکھاتے ہیں۔تو ہمیں