حیات بشیر — Page 300
300 عیسائیت کے مقابلہ کا جوش پید اہو جاتا ہے جس یقین اور وثوق کیسا تھ آپ نے اپنی تحریرات میں اسلام کی فتح اور عیسائیت کی شکست کا ذکر فرمایا ہے اسے پڑھ کر دل میں عیسائیت کا مقابلہ کرنے کا ایک جوش حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری فرماتے ہیں ۱۹۶۲ کے شروع میں جب پادری عبد الحق صاحب سے مناظرہ کی شرائط طے کرنے کے لئے میں اور مکرم قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائلپوری آپ سے مل کر لاہور گئے اور میں نے آکر آپ کو اطلاع دی کہ پادری صاحب مناظرہ کے لیے تیار نہیں ہوئے اور شرائط طے نہیں ہوسکیں تو آپ نے جواب میں مجھے ایک فقرہ یہ بھی لکھا کہ میرا تھا کہ اگر مناسب شرائط طے ہو جائیں تو اس معاند پادری سے ضرور مباحثہ ہو جائے بعد دل چاہتا ازاں پادری صاحب کو خود یا دوسرں کے کہنے سے احساس ہوا کہ ان کا مؤقف غلط تھا تو انہوں نے الوہیت مسیح پر تحریری مناظرہ شروع کر دیا تو سیدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور دعا کی اللہ تعالی اسلام کو غلبہ عطا فرمائے پھر جب دو پرچوں کے بعد پادری صاحب نے راہ فرار اختیار کی تو یہ امر بھی آپکی مزید خوشی کا باعث ہوا اور آپ نے اسے احمدیت کی ایک نمایاں فتح قرار دیا۔100 عیسائیت کے مقابلہ میں آپ کے دل کے جوش کا اندازہ ان کتب اور تحریرات سے بخوبی لگا یا جاسکتا ہے جو گذشتہ نصف صدی کے عرصہ میں آپ کے قلم سے نکلیں اس کتاب میں بھی آگے چل کر جو مکتوبات درج کئے جائیں گے ان میں سے بھی بعض اس جوش کا آئینہ دار ہیں۔اسلام اور احمدیت کے شاندار مستقبل کے متعلق یقین اسلام اور احمدیت کے شاندار مستقبل کے متعلق آپ ایک یقین اور بصیرت کی محکم چٹان پر کھڑے تھے آپ کی جملہ تحریرات مکتوبات اور زبانی گفتگو میرے اس بیان پر شاہد ناطق ہیں اور پھر آپ کا یہ یقین محض خوش فہمی پر مبنی نہیں تھا بلکہ قرآن کریم احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا گہرا مطالعہ ہونے کی وجہ سے ہر بات آپ باحوالہ بیان فرمایا کرتے تھے جماعت میں بہت سے اندرونی و بیرونی فتنے اٹھے لیکن جہاں آپ نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی سر کردگی میں ان فتنوں کا ایک بیدار مغز جرنیل کی طرح محتاط اور چوکس ہو کر مقابلہ کیا وہاں ایک لحظہ کے لیے بھی کبھی آپ کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ فتنہ پرداز کامیاب ہو جائیں گے بلکہ جب بعض اوقات کمزور دل لوگ گھبرا اٹھتے تو ایک ہی فقرہ سے ان کی ایسی ڈھارس