حیات بشیر

by Other Authors

Page 301 of 568

حیات بشیر — Page 301

301 بندھاتے کہ ان کی ساری گھبراہٹ دور ہو جاتی اور وہ مخالفین سلسلہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے۔اسلام کے عالمگیر غلبہ کی تڑپ آپ میں اس قدر پائی جاتی تھی کہ ایک دفعہ جماعت کو تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا : ”ظاہر ہے کہ موجودہ رفتار سے اسلام اور احمدیت کے عالمگیر غلبہ کا مقصد ہر گز حاصل نہیں ہو سکتا اس لیے ایک طرف جماعت کی والہانہ جدوجہد اور دوسری طرف خدا کی معجزاہ نما نصرت کی ضرورت ہے مجھے اس وقت بچپن کا ایک شعر یاد آ رہا ہے جو میں نے جماعت کی موجودہ رفتار کے پیش نظر اپنی اوائل عمر میں کہا تھا ؎ سخت مشکل ہے اس چال منزل کئے ہاں اگر ہو سکے پرواز کے پر پیدا کر سو دوست خدا سے دعا کریں کہ وہ ہمیں دکھاوے کے پر نہیں بلکہ پرواز کے پر عطا کرے اور ہمارے ہاتھوں سے دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو ولا حول ولا قوة الا " بالله العلى العظيم انا ابھی دور کی بات نہیں چند سال قبل مسٹر خروشیف روسی وزیر اعظم نے یہ بڑہانکی تھی کہ میں ساری دنیا پر اشترا کی جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے اس وقت تک زندہ رہنے کی خواہش ہے۔مجھے توقع ہے کہ میری اس کوشش کی تکمیل کا دن دُور نہیں۔“ مسٹر خروشیف کے یہ الفاظ پڑھ کر آپ کی غیرت جوش میں آئی اور آپ نے ایک مفہ لکھا جس کا عنوان تھا غالب کون ہوگا اشتراکیت یا اسلام اس مضمون میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں درج کرنے کے بعد لکھا: انسانی زندگی محدود ہے مسٹر خروشیف نے ایک دن مرنا ہے اور میں بھی اس دنیوی زندگی کے خاتمہ پر خدا کی ابدی رحمت کا امیدوار ہوں۔مگر دنیا دیکھے گی اور ہم دونوں کی نسلیں دیکھیں گی کہ آخری فتح کس کے حق میں لکھی ہے۔روس کا ملک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عظیم الشان پیشگوئی دیکھ چکا ہے جو ان ہیبت مضمون