حیات بشیر — Page 299
299 اہم تاریخی عکسی تصاویر محفوظ رکھنے کا شوق زندہ قومیں اپنے بزرگوں کی یادگاروں کو محفوظ رکھنے میں خاص اہتمام کیا کرتی ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ بھی تاریخی اہمیت کی حامل یادگاروں سے بہت دلچپسی رکھتے تھے۔آپ نے اس کمرہ کو بھی محفوظ کرنے کا اہتمام فرمایا۔جس میں حضرت اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے تھے۔وہ کمرہ اب بھی تحریک جدید کے کواٹرز کے نزدیک محفوظ کھڑا ہے۔اسی طرح جماعت کی اہم شخصیتوں کے فوٹو بھی آپ بڑے شوق سے رکھا کرتے تھے۔۔چنانچہ جب بھی آپ سے آپ کی ملاقات کے کمرہ میں ملاقات کا موقعہ ملتا تھا وہ فوٹو دیواروں پر آویزاں نظر آتے تھے۔تبرکات کی حفاظت کا اہتمام آپ تبرکات کی حفاظت کا بھی خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے بعض تبرکات محفوظ کرنے میں آپ نے حتی المقدور سعی فرمائی اور وہ تبرکات اب آپ کے فرزند اکبر حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے پاس محفوظ ہیں۔مذہبی تعلیم کی قدر و منزلت آپ مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں اور بچیوں کو خاص قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔بلکہ بعض وقت فرمایا کرتے تھے کہ مجھے افسوس ہے کہ جو وقت میں نے دنیوی علوم کے حصول پر میں صرف کیا وہ بھی دینی علوم کے حصول میں صرف کرتا۔گو آپ کا یہ فرمانا محض کسر نفسی کے طور تھا کیونکہ آپ نے دنیوی علوم کو بھی خدمت دین کا ہی ایک ذریعہ بنایا ہوا تھا۔مگر بہر حال اس سے اس تڑپ کا اندازہ ہو سکتا ہے جو آپکو دینی علوم کے حصول میں تھی۔ایک واقعہ بھی عرض کرتا ہوں۔محترمہ امت اللطیف صاحبہ لکھتی ہیں: اس سال رمضان المبارک میں تعلیم القرآن کلاس کی طالبات کو لے کر ملاقات کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔آپ نے باوجود خرابی صحت کے سب کو اپنے کمرہ میں بلا لیا اور ہر ایک کے متعلق دریافت فرمایا اور تعلیم حاصل کرنے کے متعلق بہت نصیحتیں فرما ئیں اور پھر غیر معمولی لمبی دعا فرمائی۔“ 99۔