حیات بشیر — Page 298
298 بدعات سے نفرت بدعات سے آپ کی طبیعت میں سخت نفرت پائی جاتی تھی چنانچہ ایک مرتبہ آپ کو قادیان میں ایک ایسی دعوت ولیمہ میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا جس میں کھانے کے دوران میں اندر سے باجہ کی آواز آنا شروع ہوئی جو غالبا گراموفون یا ریڈیو کی آواز تھی اور گانا عورتوں کا گایا ہوا تھا۔یہ گانا عین دعا تک بلکہ دُعا کے ابتدائی حصے میں بھی جاری رہا۔اس پر آپ کے دل کو سخت ٹھیس لگی اور آپ نے اسے ایک بدعت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پر زور آواز بلند کی اور لکھا کہ ایک مسنون رنگ کی دعوت میں جس میں مرد و عورت کا اس قدر قریب کا اجتماع تھا۔باجے اور موسیقی کا پبلک مشغلہ اختیار کیا گیا جو ان حدود کے سراسر منافی ہے جو شریعت اسلامی ان معاملات میں قائم کرنا چاہتی ہے۔۹۸۔باغات لگانے کا شوق آپ کو باغات سے بھی خاص دلچسپی تھی چنانچہ ۱۹۲۷ء کے قریب آپ نے قادیان میں ایک احمد یہ فارم قائم کیا اور اس میں ہندوستان سے اعلیٰ قسم کے آموں کے پودے منگوا کر لگائے۔اللہ تعالیٰ نے اس فارم کو اس قدر ترقی دی کہ اس کے آم ہندوستان بھر میں نمائش کے مواقع پر اول پوزیشن حاصل کرتے رہے۔ان آموں سے آپ کو اس قدر دلچسپی تھی کہ آپ انہیں اپنے احمدی و غیر احمدی دوستوں اور عزیزوں کو بطور تحفہ بھیجا کرتے تھے اور بعض بے تکلف غیر احمدی دوست جو ہندوستان اور پاکستان میں حکومت کے اعلیٰ مناسب پر کام کرتے تھے آپ سے فرمائش کر کے بھی منگوالیا کرتے تھے بلکہ تقسیم ملک کے بعد بھی بعض احباب نے آپ کی معرفت قادیان سے آم منگوائے۔فن عمارت سے دلچپسی فن عمارت میں بھی آپ خوب دلچسپی لیتے تھے۔چنانچہ قادیان میں ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کے سلسلہ میں آپ روزانہ شام سے قبل وہاں تشریف لے جاتے اور ٹھیکیداروں کو ضروری مشورے دیتے تھے۔ربوہ میں صدر انجمن کے دفاتر بھی آپ کی عمومی نگرانی میں تعمیر ہوئے اور بھی بہت سے احباب کو میں جانتا ہوں جنہوں نے اپنے مکانوں کی تعمیر کے ہر مرحلہ پر آپ سے مشورہ لیا۔مگر تفصیل میں جانے کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔