حیات بشیر

by Other Authors

Page 297 of 568

حیات بشیر — Page 297

297 واپس آنا چاہتا ہوں مرکز سے غیر حاضری لمبی ہو رہی ہے۔“ اسی طرح ایک اور خط میں تحریر فرمایا آج (۶۱-۰۲-۱۷) لاہور میں پہلا روزہ ہے۔مگر افسوس ہے کہ میں بوجہ علالت روزے سے محروم ہوں اور زیادہ افسوس یہ ہے کہ لاہور میں ہونے کی وجہ سے نماز تراویح سے بھی محروم ہوں۔لوگ غور کریں تو مرکز کی غیر معمولی برکات ہیں اور رمضان میں تو مرکز کی برکات بہت زیادہ ہو جاتی ہیں۔‘ ۹۶ شرافت نفس شرافت نفس کا یہ حال تھا کہ سوسائٹی کے عام آدمیوں سے بھی نہایت احترام سے پیش آتے تھے اور ان کی عزت نفس کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔مکرم سید مختار احمد صاحب ہاشمی لکھتے ہیں: گذشتہ مشاورت کے موقعہ پر ایک صاحب کی طرف سے چند ایک تجاویز مجلس پر شوری میں پیش تھیں اور ایک مرتبہ وہ اپنی بات کو طول دیتے ہوئے اپنے مؤقف اصرار کر رہے تھے۔حضرت میاں صاحب (جو اس وقت کرسی صدارت پر تشریف فرما تھے) نے وقت پر کنٹرول کرنے کی غرض سے فرمایا ”بیٹھ جائیں“ جب اس دن کا پہلا اجلاس ختم ہوا اور حضرت میاں صاحب واپس تشریف لے جانے لگے تو مجھے ہال کی دوسری جانب سے آتے ہوئے دیکھ کر فرمانے لگے کہ آپ کو ایڈمٹ (Admit) کا ٹکٹ نہیں ملا۔میں نے عرض کیا کہ سٹیج پر جگہ تنگ ہوتی ہے اس لئے میں دو سال سے زائر کا ہی ٹکٹ لیتا ہوں مگر مشاورت کی کارروائی میں نے پوری سنی ہے۔فرمایا۔پھر کوئی بات؟ میں نے عرض کیا کہ آپ نے اجلاس میں فلاں صاحب کو جب بیٹھ جانے کا ارشاد فرمایا تھا تو لہجہ کچھ سخت معلوم ہوتا تھا۔جب آپ دوسرے اجلاس میں تشریف لائے تو آپ نے کارروائی شروع کرنے سے قبل اس پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے دفتر کے ایک کارکن نے مجھے اس طرف توجہ دلائی ہے جس پر میں دوستوں سے معذرت کرتا ہوں۔میں جماعت کے دوستوں سے محبت رکھتا ہوں اور ان کے اخلاص اور محبت کی قدر کرتا ہوں اور اُن کے لئے دعائیں بھی کرتا ہوں۔‘ ۹۷