حیات بشیر — Page 292
292 تو کیڑا لگا ہی کرتا تھا یہاں تو چاولوں کو بھی لگ جاتا ہے۔فرمایا ”ہلدی اور نمک لگا کر رکھو پھر نہیں لگے گا اسی طرح کھانوں اور اچار مربہ وغیرہ تیار کرنے کے متعلق آپ سے استفادہ حاصل کیا۔‘ ۹۴ محترم میاں روشن دین صاحب صراف سکنہ اوکاڑہ ضلع منٹگمری فرماتے ہیں: ۱۹۴۷ء میں ہجرت کے موقعہ پر ہوشیار پور وغیرہ کے علاقہ سے کثیر تعداد میں لوگ قادیان آگئے تھے اور لنگر سے ان لوگوں کو کھانا دیا جاتا تھا۔ان دنوں قادیان کے عام ہندو اور صراف ضرورت مند لوگوں سے زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء نہایت سستے داموں خریدتے تھے۔میں نے حضرت میاں صاحب سے عرض کی کہ اگر انجمن انتظام کرے تو آجکل ان لوگوں سے اگر سونا اسی روپے تولہ بھی خریدا جائے تو ان کو بھی فائدہ ہوگا اور انجمن کو بھی۔مگر آپ نے فرمایا کہ میاں روشن دین صاحب! ہم خرید تو لیں اور دونوں فریق کو فائدہ بھی ضرور پہنچے گا مگر اس طرح سے ہمارے جماعتی وقار کو سخت صدمہ پہنچے گا۔کل یہ لوگ ہم پر اعتراض کریں گے کہ چار دن روٹی دے کر ہمیں لوٹ لیا۔“ اللہ ! اللہ ! کس قدر دُور اندیشی اور احتیاط ہے کہ باوجود اس بات کے کہ قادیان اور بٹالہ میں یہ لوگ دو روپے تولہ سے لے کر دس روپے تولہ تک سونا عام فروخت کر رہے تھے مگر آپ نے اُن سے اسی روپے تولہ سونا خریدنا بھی گوارا نہ کیا۔اگر خرید لیتے تو آج پاکستان میں یقیناً ہم پر یہ اعتراض ہوتا جس کا حضرت میاں صاحب نے ذکر کیا ہے۔محترم شاہد احمد صاحب بی اے فرماتے ہیں: آپ کے نواسے میاں محمود احمد خاں ابن محترم نواب محمد احمد خاں صاحب نے سنایا۔کہ آپ کی کوٹھی ”البشری میں آپ کے ملاقات کے کمرے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اور بعض اور نادر فوٹو آپ کی ہدایت کے مطابق میں نے گائے ہیں اور آپ نے مجھ سے یہ کام بہت ہی توجہ سے کرایا اور جب تک تمام فوٹو اپنی اپنی جگہ پر بالکل فٹ نہ ہو گئیں اس وقت تک آرام نہیں لیا۔کئی دفعہ ارشاد فرمایا۔نہیں میاں ! یہ میخ ٹھیک جگہ پر نہیں لگا۔“ ”فلاں فوٹو ایک طرف کو زیادہ جھکی ہوئی ہے۔“ ”ہاں اب ٹھیک ہے۔“