حیات بشیر

by Other Authors

Page 293 of 568

حیات بشیر — Page 293

293 یہ واقعات بتاتے ہیں کہ آپ ہر کام میں نہایت ہی احتیاط سے کام لیتے تھے اور جب تک کوئی کام ہر جہت سے مکمل نہ ہو جاتا اُسے نامکمل اور ادھورا نہیں چھوڑتے تھے۔لین دین کے معاملات میں نمونہ لین دین کے معاملات میں بھی آپ نے جماعت کے سامنے کامل نمونہ پیش فرمایا۔محترم ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب سکنہ لائل پور فرماتے ہیں: ” میں نے ایک پلاٹ دس مرلہ کا حضرت میاں صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ سے قادیان محله دارالرحمت میں خریدا۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت میاں صاحب مرحوم کو اسی پلاٹ کی ضرورت محسوس ہوئی۔مجھے آپ نے پیغام بھیجا کہ وہ پلاٹ جو دس مرلہ کا ہے مجھے دے دیں اور اس کے بدلہ میں سات مرلہ کا پلاٹ میں آپ کو دیتا ہوں۔وہ لے لیں۔مجھے اس کی ذاتی ضرورت ہے۔میں نے جواب دیا کہ حضور! سب پلاٹ آپ کے ہی ہیں۔اگر آپ کے پاس تبادلہ میں دینے کے لئے کوئی پلاٹ نہیں ہے تو پھر بھی وہ پلاٹ آپ لے لیں۔میں نہایت خوشی سے آپ کو دیتا ہوں۔حضرت میاں صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ اس جواب سے بہت خوش ہوئے۔چند دن کے بعد آپ نے مجھے دفتر میں بلا بھیجا۔میں دفتر گیا تو حضرت میاں صاحب نے مسکراتے ہوئے چہرہ کے ساتھ میرا شکریہ ادا کیا۔اور فرمایا چونکہ مجھے ذاتی ضرورت تھی۔اس لئے میں نے وہ پلاٹ آپ سے واپس لے لیا ہے۔اب آپ سات مرلہ والا پلاٹ لے لیں۔یہ آپ کے نام منتقل کر دیا ہے۔بقایا تین مرلہ کی قیمت بھی واپس لے لیں۔اس پلاٹ کے ساتھ ایک ہندو کی زمین ہے۔میں کوشش کر رہا ہوں کہ اس کو کسی اور جگہ زیادہ زمین دے کر تبادلہ کر لوں۔جس وقت بھی وہ زمین مجھے مل گئی۔میں آپ کو جتنی زمین آپ لینی چاہیں گے دے دوں گا۔میں نے عرض کی۔حضور! اُس وقت زمین کی قیمت خدا جانے کیا ہو! کیونکہ یہ پلاٹ ایک سو بیس روپیہ فی مرلہ کے حساب سے خریدا تھا۔لیکن اب جو پلاٹ میں نے دوکان کے لئے خریدا ہے تو وہ چھ سو اسی روپیہ فی مرلہ کے حساب سے خریدا ہے۔قادیان کی زمین کی قیمتیں تو دن بدن بڑھ رہی ہیں۔حضرت میاں صاحب نے میری بات بڑے غور سے سنی اور ایک منٹ کی