حیات بشیر

by Other Authors

Page 291 of 568

حیات بشیر — Page 291

291 گاڑی آنے میں صرف چند منٹ باقی ہیں۔اس لئے فوراً اسٹیشن پر جا کر میاں صاحب سے ملاقات کر لو۔میں نے اسی وقت اسٹیشن کا رُخ کیا۔ادھر میں پہنچا اُدھر حضرت میاں صاحب کی جیپ آ پہنچی۔میں نے عرض کی۔میاں صاحب! میرے ایک بچے نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف الیس سی کا امتحان پاس کیا ہے اور وہ واقف زندگی ہے۔مجھے لاہور سے حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے آپ کے پاس بھیجا ہے تا آپ اسکی آئندہ تعلیم سے متعلق رہنمائی فرمائیں۔آپ نے میری بات سنتے ہی فرمایا اسے مغلپورہ انجینئرنگ کالج میں داخل کر دو اور سول انجینئر بناؤ۔میں حضرت میاں صاحب کی یہ بات سن کر حیران رہ گیا اور سوچنے لگا کہ کس طرح دونوں بزرگوں کی رائے میں اتفاق ہوگیا۔چنانچہ اس کے بعد واپس لاہور پہنچ کر میں نے بچے کو کہدیا کہ انجینئرنگ کالج میں داخلہ لے لو۔اس نے داخلہ لے لیا اور اب بفضلہ تعالیٰ تیسرے سال کا امتحان دے رہا ہے۔ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ مؤید من اللہ ہوتے ہیں چونکہ سر چشمہ ایک ہوتا ہے اس لئے اُن کی رائے میں بھی یکسانیت پائی جاتی ہے۔قومی رواداری حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ میں قومی رواداری کا جذبہ بھی نمایاں طور پر پایا جاتا تھا۔محترمہ امۃ الشافی صاحبہ فرماتی ہیں: ایک دفعہ اس عاجزہ نے خط لکھ کر دریافت کیا کہ میں صدقہ دینا چاہتی ہوں مگر میرے اردگرد جو لوگ ہیں وہ ہیں تو مستحق مگر احمدی نہیں ہیں کیا میں ان کو صدقہ دے دیا کروں۔میاں صاحب نے بڑے زور دار الفاظ میں تحریر فرمایا۔ہمارا خدا تعالیٰ تو رازق ہے اور وہ رزق سبھی کو دیتا ہے اس نے مسلم اور غیر مسلم کی بھی کوئی شرط نہیں لگائی۔ہمیں بھی احمدی اور غیر احمدی کا کوئی خیال نہیں کرنا چاہیے۔“ ۹۳۔غرض آپ کا فیض عام تھا اس میں احمدی و غیر احمدی یا مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں تھی۔بہت محتاط آپ اپنے ہر کام میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے تھے اور ہر چیز کو قرینہ اور نہایت ہی سلیقہ سے رکھتے تھے محترمہ امتہ اللطیف صاحب جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکز یہ لکھتی ہیں: ایک مرتبہ گندم ہوا لگوانے کے لئے دھوپ میں پڑی تھی۔میں نے کہا کہ گندم کو