حیات بشیر

by Other Authors

Page 285 of 568

حیات بشیر — Page 285

285 پوری گہرائی تک پہنچ کر ہدایات صادر فرمایا کرتے۔حضرت میاں صاحب نے مجھے ربوہ سے واپسی پر قادیان جانے سے قبل دوبارہ ملنے کی اجازت بھی مرحمت فرمائی۔آپ کی اس ملاقات کے بعد جب میں حضرت ممدوح کے کمرے سے باہر نکلا تو میرے دل ودماغ میں بار بار یہ خیال آیا کہ حضرت ممدوح نے کس طرح میری سے بہت بڑھ کر باجود بیماری اور ضعف کے شرف ملاقات بخشا اور جو نہی جماعتی معاملہ کا ذکر آیا آپ ان باتوں میں اس قدر محو ہو گئے کہ گویا اپنی بیماری کی تکلیف کو بالکل فراموش کر دیا۔توقع ربوہ سے واپسی پر قادیان کے لئے روانہ ہونے سے قبل جب خاکسار مورخہ ۱۲ راگست کی صبح کو دوبارہ حضرت میاں صاحب کی قیامگاہ پر زیارت اور سلام کے لئے حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ حضرت ممدوح کی تکلیف پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے۔آپ کو رات بھر بے چینی کی وجہ سے نیند نہیں آئی اور صبح آنکھ لگی تھی۔اس لئے آپ کے بیدار ہونے تک ایک گھنٹہ انتظار کے بعد قریباً دس بجے حضرت صاحب سے ملاقات کے لئے موقعہ میسر آیا۔حضرت میاں صاحب کے چہرہ پر پہلے سے بہت زیادہ کمزوری کے آثار تھے۔جب خاکسار نے السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا تو حضرت میاں صاحب نے ایک عجیب محبت اور شفقت کے انداز میں کئی لمحوں کے لئے خاکسار کے ہاتھوں کو اپنے دست مبارک میں رکھا اور دو تین مرتبہ رقت آمیز لہجہ میں فرمایا که ”میرا ضعف بڑھ رہا ہے۔کمزوری زیادہ ہو رہی ہے۔تمام درویشان کو میرا سلام پہنچا کر دعا کے لئے تحریک کریں۔“ خاکسار نے عرض کیا۔حضرت! درویشان متواتر حضرت اقدس خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ بنصرہ العزیز اور آں مکرم کی صحت کے لئے دعا کر رہے ہیں۔اور قادیان میں درویشان کی ایک کثیر تعداد محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی مبارک تحریک میں شامل ہو کر باقاعدگی سے نماز تہجد اور درود شریف کا ورد کر رہی ہے تو میرے اس بیان پر حضرت میاں صاحب کے نورانی چہرہ پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور اپنی