حیات بشیر — Page 286
286 زبان سے بھی حضرت ممدوح نے اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔۸۶ حضرت میاں صاحب کی جماعتی امور سے دلچسپی کے بارہ میں یہ واقعہ بطور مثال عرض کیا گیا ہے۔ورنہ بیسیوں ایسے واقعات ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شدید علالت میں بھی آپ نے کوئی موقعہ جماعتی معاملات سے دلچسپی کا ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔عدل وانصاف کا جذبہ عدل و انصاف کا جذبہ بھی آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔تقسیم پنجاب سے قبل ایک سکھ اخبار ”شیر پنجاب“ کے ایڈیٹر نے جماعت احمدیہ کو ہوشیار کیا کہ مسلمان گذشتہ زمانہ میں آپ لوگوں پر بہت ظلم کرتے رہے ہیں۔اس لئے اب آپ کو مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونے کی بجائے سکھوں کے ساتھ اتحاد کر لینا چاہیے۔اس پر آپ نے اُسے مخاطب کر کے لکھا کہ ہماری گھٹی میں یہ تعلیم پڑی ہوئی ہے کہ مخالفت میں فرد کی طرف نہ دیکھو بلکہ اصول کی طرف دیکھو اور دشمنی انسانوں کے ساتھ بھی نہ رکھو بلکہ بُرے خیالات کے ساتھ رکھو کیونکہ کل کو یہی مخالف لوگ اچھے خیالات اختیار کر کے دوست بن سکتے ہیں۔چنانچہ احمدیوں کا پچانوے فیصدی حصہ دوسرے مسلمانوں میں سے ہی نکل کر آیا ہے۔پس اگر گذشتہ زمانہ میں کسی نے ہم پر ظلم کیا ہے تو اس وقت ہم اس کے ظلم کو حوالہ بخدا کر کے صرف یہ دیکھیں گے کہ انصاف کا تقاضا کیا ہے اور افراد کے متعلق ہم بہر حال عفو اور رحم کے عنصر کو مقدم کریں گے۔‘ ۸۷ اسی طرح ۱۹۴۶ء میں جب جناب چوہدری فتح محمد صاحب سیال تحصیل بٹالہ کے مسلم کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہو گئے تو آپ نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ صرف انہیں لوگوں کے نمائندہ نہیں ہیں جنہوں نے ان کے حق میں ووٹ دیے ہیں بلکہ ممبر ہو جانے کے بعد وہ ان لوگوں کے بھی نمائندہ ہیں جو الیکشن میں ان کے مخالف رہے ہیں۔پس گو طبعا ان کی دلی محبت اپنے ان مؤیدین کے ساتھ زیادہ ہو گی جنہوں نے مشکل کے وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے۔مگر جہاں تک حقوق کا تعلق ہے انہیں اپنے مخالفین کے ساتھ بھی پوری طرح عدل و انصاف کا معاملہ کرنا چاہیے۔‘ ۸۸ حلقہ