حیات بشیر — Page 283
283 عورت جسے گھر کے ایک خادم کے سامنے بھی کرسی پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی اور جس کی ساری عمر خاک میں لتھڑے ہوئے گذری، اُسے باصرار آپ نے کرسی پر بٹھایا اور بشیر سے کہا کہ قادیان سے آئی ہے۔پرانی خادمہ ہے اس کے لئے چائے لاؤ۔لیکن اس نے یہ کہہ کر کہ ابھی فلاں کے گھر سے چائے پی کر آئی ہوں معذرت پیش کر دی۔پھر آپ بڑی ہمدردی سے کافی دیر تک اس کے حالات پوچھتے رہے۔۸۵ جماعتی معاملات سے دلچپسی آپ سے بڑھ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے بعد بڑھ کر جماعتی معاملات میں دلچسپی لینے والا اور کوئی شخص نہیں تھا۔آپ نے ہوش سنبھالتے ہی خدمت دین کا بیڑہ اٹھایا اور تادم واپسیں اس میں منہمک رہے اور یہی نہیں کہ صرف اپنے ہی شوق اور جذبہ کے ماتحت یہ کام کیا بلکہ نظام جماعت کی پوری پابندی کرتے ہوئے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے تو آپ فرمانبردار تھے ہی سلسلہ کے دیگر افسروں اور ذمہ دار کارکنوں سے بھی آپ نے ہمیشہ تعاون فرمایا۔کارکنوں کی ادنیٰ ادنی خدمات کی بھی آپ بڑی قدر فرماتے تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ اکثر احباب جو بھی کوئی دینی کام کرتے اس کی رپورٹ آپ کی خدمت میں ضرور کرتے جماعتی معاملات میں آپ اس قدر دلچسپی لیتے تھے کہ بعض اوقات بیماری اور پریشانی کی حالت میں بھی اپنے نفس پر جبر کر کے رپورٹیں سنتے اور مفید اور کار آمد مشوروں سے نوزاتے تھے۔محترم شیخ عبد الحمید صاحب عاجز ناظر بیت المال قادیان لکھتے ہیں: حضرت میاں صاحب کی وفات سے تین ہفتہ قبل مجھے چند روز کے لئے لاہور اور ربوہ جانے کا اتفاق ہوا ان دنوں آپ کی تشویشناک بیماری کی خبریں روزانہ اخبار میں آ رہی تھیں۔خاکسار نے لاہور میں اپنے بعض دوستوں سے جب اس بات کا اظہار کیا کہ میں حضرت ممدوح کی مزاج پرسی اور بعض جماعتی معاملات پیش کر کے آپ سے ہدایت اور برکت حاصل کرنے کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں تو کئی ایک احباب نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ حضرت میاں صاحب کی موجودہ بیماری کی حالت میں آپ سے ملاقات کر کے آپ کو کسی جماعتی معاملہ کے