حیات بشیر — Page 282
282 اسلامی مساوات کی رُوح باوجود ایک عظیم الشان ہستی ہونے کے آپ میں اسلامی مساوات کی رُوح بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔آپ کبھی یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ کسی مجمع میں آپ کے بیٹھنے کے لئے کوئی الگ اور نمایاں انتظام کیا جائے۔مکرمی میاں محمد ابراہیم صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ تحریر فرماتے ہیں: دو ربوہ میں ایک مرتبہ ضلع جھنگ کے ہیڈ ماسٹر صاحبان کی میٹنگ ہوئی۔ان ہیڈ ماسٹر صاحبان کو میں حضرت میاں صاحب کی خدمت میں بغرض ملاقات لے گیا۔آپ کے ملاقات کے کمرے میں کرسیاں موجود تھیں مگر جگہ کی تنگی کا احساس کر کے میں احتیاطاً دری پر ہی بیٹھ گیا۔حضرت میاں صاحب نے کمال شفقت سے فرمایا : دد کرسی پر بیٹھیں۔ورنہ میں بھی نیچے آجاؤں گا۔“ ۱۴ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا آپ کو اس قدر اہتمام تھا کہ باریک در باریک پہلو بھی نظر انداز نہیں فرماتے تھے کیا بلحاظ رحم اور کیا بلحاظ عدل اور کیا بلحاظ مساوات اسلامی، ہراس روش پر سے ہو کر گذرتے رہے جس پر کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عشاق کا قافلہ گذرا تھا۔اپنے خادموں پر ایسی شفقت تھی اور اُن کے مقام کو ایسا اُٹھاتے تھے کہ وہ برابر کرسیوں اور پلنگوں پر بیٹھتے تھے۔یہاں تک کہ گھر کے بعض افراد کبھی شکوے کے رنگ میں یہ کہہ دیتے تھے کہ میاں صاحب نے نرمی کر کر کے نوکروں کا دماغ خراب کر دیا ہے۔کوئی کہتا تھا کہ آپ کے نوکر بدتمیز ہو جاتے ہیں۔مگر حضرت میاں صاحب نے کبھی ان امور کی پروا نہیں کی اور کبھی اُسوۂ رسول کی پیروی میں پریشان نہیں ہوئے۔ایک دفعہ مجھ سے فرمایا کہ کبھی کبھی یہ بھی ہونا چاہیے کہ نوکروں کو میز پر بٹھا کر مالک انہیں کھانا کھلائیں۔تاکہ نفس کے تکبر کا کیٹرا ہلاک ہو جائے۔تکبر سے شدید نفرت تھی اور طبیعت ایسی منکسر اور عاجز تھی کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔نوکر تو خیر نوکر ہیں۔آپ کے خادم بشیر نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ قادیان کی ایک بوڑھی خاکروبہ سلام کے لئے حاضر ہوئی اور زمین پر بیٹھنے لگی تو آپ نے فرمایا اٹھو کرسی پر بیٹھو اور وہ